Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کی غزل

    راہبر کیا کرے دعا کے سوا

    راہبر کیا کرے دعا کے سوا سب ہیں کج رو شکستہ پا کے سوا پستئ خاک سے گلہ تو بجا کیا ملا اوج پر خلا کے سوا سب دکھاتے ہیں آگ خرمن کو ہے محافظ کوئی خدا کے سوا اب تو سب کو ہی آزما بیٹھے ماسوا خود کے اور خدا کے سوا کون ہم سے قدم ملا کے چلا ایک صبر گریز پا کے سوا

    مزید پڑھیے

    سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

    سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا بچ رہے یوں کہ زمانے نے فسانہ جانا سخت معتوب رہے اور خطا اتنی تھی جو خدا نہ تھا اسے ہم نے خدا نہ جانا اس قدر بھی نہ جری تھے کہ الجھتے سب سے شور شب خوں کو مگر بانگ درا نہ جانا اب کے الزام لگا ہم پہ کھلی آنکھوں کا جو نظر آیا اسے اس سے سوا نہ جانا کم ...

    مزید پڑھیے

    اس بڑے شہر میں بے نام و نشاں میں ہی ہوں

    اس بڑے شہر میں بے نام و نشاں میں ہی ہوں ڈر سے اس شہر کے خدشوں کی زباں میں ہی ہوں میں ہوں اس اجڑے ہوئے باغ میں بے رت کی کلی جس کی ہر سانس ہے توہین خزاں میں ہی ہوں لفظ چلتے ہیں مرے نطق سے تیروں کی طرح دست حق میں جو کڑکتی ہے کماں میں ہی ہوں کیا عجب مجھ سے جو پرخاش ہے شب زادوں کو جس سے ...

    مزید پڑھیے

    حقیقتوں کا بھی عرفاں ہو سوز جاں بھی رہے

    حقیقتوں کا بھی عرفاں ہو سوز جاں بھی رہے خلا میں بھی ہو قدم سر پہ آسماں بھی رہے یہ گر سمجھنا ہے یاران صاف گو سے مجھے زباں پہ بات بھی ہو دل کی اور زباں بھی رہے محبتوں کے یہ پہلو ہیں کچھ تضاد نہیں کہ اعتبار بھی کامل تھا بد گماں بھی رہے کسی کسی کو ہی حاصل ہے یہ قرینۂ زیست کہ برق عشق ...

    مزید پڑھیے

    پھر ملاقات میں ہے عشق کے آغاز کا رنگ

    پھر ملاقات میں ہے عشق کے آغاز کا رنگ وہی آواز کی نکہت وہی انداز کا رنگ عام الفاظ میں پوشیدہ معانی کی تہیں ہر نگاہ غلط انداز لیے راز کا رنگ سرنگوں ہیبت جلاد و شکوہ سلطاں دیدنی دار پہ تھا عشق سر افراز کا رنگ آئے محفل میں تو لرزی ہیں چراغوں کی لویں ان کے دیدار سے ہے شوخ گل ناز کا ...

    مزید پڑھیے

    عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا

    عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا کہ تو رضا سے مقدر ہوا قضا سے نہ تھا یہ حال زار تو آشوب آگہی سے ہوا کہ گل دریدہ جگر موجۂ صبا سے نہ تھا کھنڈر تو شہر دل اندر کے زلزلوں سے ہوا یہ ظلم تیری جفا یا تری وفا سے نہ تھا بکھرے گئے گل نازک ہوا کے جھونکے سے گلا جو تھا تو نزاکت سے تھا ہوا سے ...

    مزید پڑھیے

    دوستی کی جستجو ہے شہر میں

    دوستی کی جستجو ہے شہر میں ہم بھی موتی ڈھونڈتے ہیں نہر میں غور سے دیکھا تو ہر خورشید چاند طبع روشن کتنی کم ہے دہر میں جب بھی چاہا چل پڑی ماضی کی فلم ایسی قدرت یاد کی اک لہر میں جانتے ہیں کچھ ہمیں انساں زدہ فرق انساں اور خدا کے قہر میں شدت احساس تھی انعام عشق شہد اب شیریں نہ تلخی ...

    مزید پڑھیے

    زباں کٹی سو کٹی بحث مختصر تو ہوئی

    زباں کٹی سو کٹی بحث مختصر تو ہوئی جو بات میں نے کہی تھی وہ معتبر تو ہوئی یہ دن تو رات میں ڈھلتا نظر نہیں آتا بھلی تھی شب کہ گزر تو گئی سحر تو ہوئی گری فصیل جو زنداں کی سر بہت پھوٹے مچا تو شور مگر خلق کو خبر تو ہوئی مقابلے میں ادھر تیغ تھی ادھر گردن میں سرخ رو ہوں کہ تفریق خیر و شر ...

    مزید پڑھیے

    کیا کیا ہوئی ہے بات کی تحقیر دیکھیے

    کیا کیا ہوئی ہے بات کی تحقیر دیکھیے چپ چاپ کہنے والے کی تصویر دیکھیے گزری تمام عمر تو تعمیر خواب میں فرصت کہاں کہ خواب کی تعبیر دیکھیے صدق مقال شعلۂ عریاں بنا گیا تقدیر میں تپش ہے کہ تنویر دیکھیے کیا دور ہے کہ لفظ سے معنی نکل گئے خالی مکاں کی شوکت تعمیر دیکھیے جور و کرم کا ...

    مزید پڑھیے

    جب گنا قرض چکانے آئے

    جب گنا قرض چکانے آئے سب کے پھر ہوش ٹھکانے آئے تھم گئی گرد تو سب نے دیکھا سب تباہی کے دہانے آئے کس بلا کی ہے کشش وعدوں میں لوگ پھر جان لٹانے آئے میرے ہمدرد ہیں ناداں کتنے ہجر کا درد بٹانے آئے دل کا یہ حال ہوا ہے جن سے وہ بھی احسان جتانے آئے

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5