مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے

مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے
ہوں جو برہم تو کٹا طشت میں سر آ جائے


دوستو راہ میں منزل کے نشاں بھی دیکھو
چلتے چلتے نہ پھر آغاز سفر آ جائے


منفرد حسن کی دشوار ہے پردہ داری
سو حجابوں میں بھی انداز نظر آ جائے


رات کی بات رہے پردۂ تاریکی میں
شام کا بھولا اگر صبح کو گھر آ جائے


اتنی معصوم سی خواہش بھی تو پوری نہ ہوئی
خود بخود رات گزرنے پہ سحر آ جائے