کبھی تو ان کی طرف سے صفائیاں اتنی

کبھی تو ان کی طرف سے صفائیاں اتنی
کبھی ادائے جفا پر دہائیاں اتنی


ہم اجنبی تھے تو تھیں ہم میں خوبیاں کیا کیا
ملے تو نکلیں ہمیں میں برائیاں اتنی


مرا خیال تو یہ ہے کہ اب سے کھل کے ملیں
جب احتیاط پہ ہیں جگ ہنسائیاں اتنی


گلا تھا بہر گلہ لیکن اب تو شک گزرا
حضور پیش نہ کرتے صفائیاں اتنی


فراق رمز محبت سہی پہ ملتے رہو
کہ اجنبی ہی نہ کر دیں جدائیاں اتنی