Malika Naseem

ملکہ نسیم

  • 1954

ملکہ نسیم کی نظم

    دھوپ

    چھت سے اتری میں تو پھر دیوار پہ آئی اور اچانک چھم سے کود پڑی آنگن میں پتوں کی پیشانی چومی پھولوں سے سرگوشی کی آنچل سے کچھ کھیل کئے پھر بیٹھ گئی آنگن میں بیٹھی دادی ماں کی گود میں جا کر پاس گھڑے رکھے تھے کچھ گوری مٹی کے ان پر جا کر بیٹھ گئی کیونکہ پیاسی تھی لیکن یہ کیا گھڑے ہٹاؤ ...

    مزید پڑھیے

    ایک عورت

    انا کے ٹکڑے لئے کھڑی ہے کبھی سوالی ہے ذہن و دل سے کبھی گلہ ہے ضمیر سے بھی مگر کہاں کوئی سن رہا ہے یہ پتھروں کے مکاں کے اندر مکیں بھی سارے ہیں پتھروں کے لئے کھڑی ہے وہ اک سمندر سا آنسوؤں کا اگر کہیں باندھ اس کے آنچل کا ٹوٹ جائے ہر ایک قطرہ حساب مانگے گا حشر سامانیوں کا تم سے جواب آتش ...

    مزید پڑھیے

    سجدہ

    وہ اک سجدہ علامت تھا جو عظمت کا تقدس کا وہی سجدہ جبینوں سے نکل کر آج راہوں اور گلیوں میں سجا ہے اور اب جاگیر کہلاتا ہے کچھ مردہ پرستوں بے ضمیروں کی سجے ہیں آج ان سے کچھ سلگتے گھر

    مزید پڑھیے

    بے حسی

    سسک سسک کے ابھی سو گیا ہے اک بچہ لپٹ کے ماں سے یہ معصوم جب بلکتا تھا پڑوسیوں نے بہت ناک بھوں چڑھائی تھی اور اس پہ طنز کہ ضدی بہت ہے یہ بچہ مگر کسی نے نہ پوچھا کہ ضد یہ کیسی تھی اسے تلاش کھلونے کی تھی نہ کپڑوں کی بلک رہا تھا لگی تھی جو اس کے پیٹ میں آگ ضرورت اس کو تھی روٹی کی صرف روٹی ...

    مزید پڑھیے

    انوکھے پل

    اپنا بچپن ڈھونڈ رہی تھی آنگن میں کیاری میں پھولوں میں گڑیوں میں کھلے کھلے آکاش میں تاروں میں چندا میں سورج کی گرماہٹ میں بارش کی گرتی بوندوں میں تتلی کے رنگوں میں پھولوں کی خوشبو میں لیکن وہ پایا میں نے دو ننھے منے ہاتھوں میں جو اپنی بانہیں پھیلائے اپنے بچپن کی تصویر میں مرا عکس ...

    مزید پڑھیے

    مسرت

    مرے گھر کی منڈیروں پر پرندے چہچہاتے ہیں میں اکثر سوچتی ہوں ان سے پوچھوں یہ مسرت کے حسیں لمحے کہاں سے لے کے آتے ہیں

    مزید پڑھیے

    وہم

    میں کچھ دنوں سے پریشاں بھی ہوں اداس بھی ہوں کبھی تو ٹوٹتے دیکھی ہے شاخ گل میں نے کبھی کسی کا بسیرا اجڑتے دیکھا ہے نہ جانے خواب یہ کیسے ہیں جن کی تعبیریں مرے شعور میں اکثر بھٹکتی رہتی ہیں خدا کرے کہ یہ لمحات تم سے دور رہیں یہ وہم سارے تمہیں ہاتھ بھی لگا نہ سکیں

    مزید پڑھیے

    زیبرا کراسنگ

    میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر اس امید پر شاید وہ ادھر سے گزرے گا اور ایک پل رک کر خود سے وہ یہ بولے گا اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں زیبرا کراسنگ سے مجھ کو ایک پل دے دے میں جہاں پہ خود رک کر خود پہ بھی نظر ڈالوں اور بس یہی لمحہ خواہشوں کی جھیلوں پر برف کی طرح جم کر میرے ذہن و ...

    مزید پڑھیے

    ہوا

    ہوا موسم کی رقاصہ پہن کر پاؤں میں پتوں کے گھنگھرو ڈولتی جائے کبھی انگلی پکڑ کر بادلوں کی جھوم کر گائے کبھی بارش کی چادر اوڑھ کر آنگن بھگو جائے کسی معصوم لڑکی کا کبھی آنچل اڑا جائے ہوا موسم کی رقاصہ کبھی کلیوں کے رخساروں پہ بوسے لے شرارت سے کبھی کھلتے ہوئے پھولوں کی شاخوں سے جدا ...

    مزید پڑھیے

    سناٹا

    آج پھر دہلیز پر کچھ آہٹیں ہیں کون ہوگا کون آیا ہوگا ان تنہائیوں میں ان اندھیروں میں ختم ہونے کو چراغوں کا سفر ہے روشنی مہمان کچھ لمحوں کی ہے گونگے لہجے ساعتیں اندھی شکستہ اعتماد برف کی چادر لپیٹے ہیں وہ سب الفاظ اب تک فخر تھا جن کی وفاداری پہ مجھ کو آج وہ بھی ٹوٹ کر بکھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2