دھوپ
چھت سے اتری میں
تو پھر دیوار پہ آئی
اور اچانک چھم سے کود پڑی آنگن میں
پتوں کی پیشانی چومی
پھولوں سے سرگوشی کی
آنچل سے کچھ کھیل کئے
پھر بیٹھ گئی آنگن میں بیٹھی
دادی ماں کی گود میں جا کر
پاس گھڑے رکھے تھے کچھ
گوری مٹی کے
ان پر جا کر بیٹھ گئی کیونکہ پیاسی تھی
لیکن یہ کیا گھڑے ہٹاؤ دھوپ آ گئی
گونج اٹھی آواز آنگن میں
اور کسی نے گھڑے ہٹائے
میں پیاسی ہی واپس آئی
سوچ رہی تھی
میں نکلی تھی پیار بانٹنے
پھر بھی کیوں میں پیاسی ہوں
پیار بانٹنے والے کیا
یوں ہی پیاسے رہ جاتے ہیں