ہوا
ہوا موسم کی رقاصہ
پہن کر پاؤں میں پتوں کے گھنگھرو
ڈولتی جائے
کبھی انگلی پکڑ کر بادلوں کی جھوم کر گائے
کبھی بارش کی چادر اوڑھ کر
آنگن بھگو جائے
کسی معصوم لڑکی کا کبھی آنچل اڑا جائے
ہوا موسم کی رقاصہ
کبھی کلیوں کے رخساروں پہ
بوسے لے شرارت سے
کبھی کھلتے ہوئے پھولوں کی شاخوں
سے جدا کر دے
کبھی لڑنا پہاڑوں سے
چراغوں سے کبھی ٹکر
یہی کشتی ڈبو دیتی ہے اکثر لا کے ساحل پر
ہوا موسم کی رقاصہ
چلے جب سنسناتی بچپنا آنچل میں چھپ جائے
بنے باد صبا جب بھی تو خوشبوئیں چرا لائے
کبھی خوشیوں کی لے پر رقص کرتی
یہ نظر آئے
کبھی ٹوٹی ہوئی شہنائیوں میں سسکیاں بن کر اتر جائے
سیہ راتوں میں آنچل چاندنی کا
ڈھونڈنے نکلے
بھری برسات میں بجلی سے درپن مانگنے نکلے
ہوا موسم کی رقاصہ
اگر یہ تھک گئی انسان جینا بھول جائے گا
اگر یہ رک گئی بادل برسنا بھول جائے گا
دعا یہ ہے نہ تھکنے پائیں اس کے یہ تھرکتے پاؤں
رہے یہ رقص میں مشغول صبح و شام
ہوا موسم کی رقاصہ