سناٹا
آج پھر دہلیز پر کچھ آہٹیں ہیں
کون ہوگا
کون آیا ہوگا
ان تنہائیوں میں
ان اندھیروں میں
ختم ہونے کو چراغوں کا سفر ہے
روشنی مہمان کچھ لمحوں کی ہے
گونگے لہجے ساعتیں اندھی شکستہ اعتماد
برف کی چادر لپیٹے ہیں وہ سب
الفاظ اب تک
فخر تھا جن کی وفاداری پہ مجھ کو
آج وہ بھی ٹوٹ کر
بکھرے ہیں سناٹوں کی چوکھٹ پر