وہم

میں کچھ دنوں سے پریشاں بھی ہوں
اداس بھی ہوں
کبھی تو ٹوٹتے دیکھی ہے شاخ گل میں نے
کبھی کسی کا بسیرا اجڑتے دیکھا ہے
نہ جانے خواب یہ کیسے ہیں
جن کی تعبیریں
مرے شعور میں اکثر بھٹکتی رہتی ہیں
خدا کرے کہ یہ لمحات تم سے دور رہیں
یہ وہم سارے تمہیں ہاتھ بھی لگا نہ سکیں