ایک عورت

انا کے ٹکڑے لئے کھڑی ہے
کبھی سوالی ہے ذہن و دل سے
کبھی گلہ ہے ضمیر سے بھی
مگر کہاں کوئی سن رہا ہے
یہ پتھروں کے مکاں کے اندر
مکیں بھی سارے ہیں پتھروں کے
لئے کھڑی ہے وہ اک سمندر سا آنسوؤں کا
اگر کہیں باندھ اس کے آنچل کا ٹوٹ جائے
ہر ایک قطرہ حساب مانگے گا حشر سامانیوں کا تم سے
جواب آتش نوائیوں کا
جواب صحرا نوردیوں کا
مگر کہاں ہیں جواب سارے
جواب لفظوں سے ماورا ہیں