Malika Naseem

ملکہ نسیم

  • 1954

ملکہ نسیم کی غزل

    زندگی ہاتھ سے سپر رکھ دے

    زندگی ہاتھ سے سپر رکھ دے روح میں میری اک شرر رکھ دے شب کی تنہائی مجھ سے کہتی ہے میرے شانوں پہ اپنا سر رکھ دے روشنی قرض مانگتا ہے کیوں اٹھ اندھیرے نچوڑ کر رکھ دے آ رہی ہے پھر انتظار کی رات پھر دیا ایک طاق پر رکھ دے وہ جو پردیس جا رہا ہے نسیمؔ اس کی آنکھوں میں اپنا گھر رکھ دے

    مزید پڑھیے

    سلگتی شام کی دہلیز پر جلتا دیا رکھنا

    سلگتی شام کی دہلیز پر جلتا دیا رکھنا ہماری یاد کا خوابوں سے اپنے سلسلہ رکھنا صدا بن کر گھٹا بن کر فضا بن کر صبا بن کر نہ جانے کب میں آ جاؤں دریچہ تم کھلا رکھنا انہیں راہوں سے لوٹوں گی نہ آؤں یہ بھی ممکن ہے مگر تم ریت پر محفوظ اپنے نقش پا رکھنا نہ پڑھ لے کوئی تحریریں تمہارے زرد ...

    مزید پڑھیے

    میری سانسیں شام کی بھیگی ہوا میں کھل گئیں

    میری سانسیں شام کی بھیگی ہوا میں کھل گئیں بند کی آنکھیں تو ماضی کی کتابیں کھل گئیں وہ جو بچپن میں بنائی تھی کبھی دیوار پر اب کہ بارش میں وہ تصویریں بھی ساری دھل گئیں کر گئیں موجیں شرارت جب بھی لکھا تیرا نام ریت پر جتنی لکیریں تھیں وہ مل جل گئیں بند آنکھوں میں سنہرے خواب ٹھہرے ...

    مزید پڑھیے

    وہ موسم بے خودی کے تھے جو موسم ہم گزار آئے

    وہ موسم بے خودی کے تھے جو موسم ہم گزار آئے کہ جب چاہا تمہارے نام سے خود کو پکار آئے سفر کی سب اذیت منتظر آنکھیں اگر لے لیں پروں میں طاقت پرواز پھر بے اختیار آئے میں تشنہ لب زمینوں پر کہاں تک چشم تر رکھتی سفر میں زندگی کے ہر قدم پر ریگ زار آئے غموں کے دوش پر جب قریۂ جاں کا سفر ...

    مزید پڑھیے

    رواں دواں نئی تہذیب کا سفر رکھو

    رواں دواں نئی تہذیب کا سفر رکھو مگر نگاہ کو منزل سے با خبر رکھو صداقتوں کی حفاظت کا حوصلہ ہو اگر تو اپنے ہاتھوں سے نیزے پہ اپنا سر رکھو تمہاری نسل کی پرواز میں خلل نہ پڑے مت ان کے سامنے اپنے شکستہ پر رکھو نہ غم کرو جو کڑی دھوپ کا سفر ہے حیات جلو میں اپنے کوئی سایۂ شجر رکھو سحر ...

    مزید پڑھیے

    خوشبوؤں کا ہر طرف انبار ہے

    خوشبوؤں کا ہر طرف انبار ہے کوئی تو ہے جو پس دیوار ہے چھاؤں میں کیسے ٹھہرتی ایک پل دھوپ بھی تو صاحب کردار ہے ہے سفر خوشیوں کا لیکن زندگی سر پہ اک لٹکی ہوئی تلوار ہے کون کس کی اب مسیحائی کرے ذہن ہی اس عہد کا بیمار ہے قد بڑھا دیں جس کا جھوٹی شہرتیں آج وہ سب سے بڑا فن کار ہے غم ملے ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

    ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں ہمارے گھر کے در و بام مہکے جاتے ہیں میں سوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے پرندے آ کے سر شام بیٹھ جاتے ہیں ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے ندی میں جیسے کئی دیپ جھلملاتے ہیں چلی ہیں دور ترقی کی آندھیاں کیا کیا شرافتوں کے در و بام ٹوٹے جاتے ...

    مزید پڑھیے

    اگر چاہوں جھٹک کر توڑ دوں زنجیر تنہائی

    اگر چاہوں جھٹک کر توڑ دوں زنجیر تنہائی میں تنکا ہوں مگر موجوں سے ہے میری شناسائی شریک راہ تھی جب تک ہماری آبلہ پائی نہ ماتھے پر شکن ابھری نہ پاؤں میں تھکن آئی ہوا سے صبح نا آسودگی اچھا کیا تو نے کتاب زندگی کے کچھ ورق تو بھی اڑا لائی ہزاروں مرحلے تھے فصل گل سے چاک داماں تک خزاں ...

    مزید پڑھیے