زندگی ہاتھ سے سپر رکھ دے
زندگی ہاتھ سے سپر رکھ دے روح میں میری اک شرر رکھ دے شب کی تنہائی مجھ سے کہتی ہے میرے شانوں پہ اپنا سر رکھ دے روشنی قرض مانگتا ہے کیوں اٹھ اندھیرے نچوڑ کر رکھ دے آ رہی ہے پھر انتظار کی رات پھر دیا ایک طاق پر رکھ دے وہ جو پردیس جا رہا ہے نسیمؔ اس کی آنکھوں میں اپنا گھر رکھ دے