انوکھے پل

اپنا بچپن ڈھونڈ رہی تھی
آنگن میں کیاری میں
پھولوں میں گڑیوں میں
کھلے کھلے آکاش میں
تاروں میں چندا میں
سورج کی گرماہٹ میں
بارش کی گرتی بوندوں میں
تتلی کے رنگوں میں
پھولوں کی خوشبو میں
لیکن وہ پایا میں نے
دو ننھے منے ہاتھوں میں
جو اپنی بانہیں پھیلائے
اپنے بچپن کی تصویر میں مرا عکس سمیٹے
شیریں ہونٹوں پر ممتا کے لفظ سجائے
مجھ کو ماں کہہ کر
خوابوں کے ان انجان
جزیروں میں پہنچا دیتا ہے
جہاں مجھے اک سجا سجایا گھر ملتا ہے