Malika Naseem

ملکہ نسیم

  • 1954

ملکہ نسیم کی نظم

    ایک خط

    ایک عرصے سے سوچ رہی ہوں کہ تم کو خط لکھوں لیکن کیا لکھوں یہی کہ اندھیرے کے بادل چھٹ نہیں رہے ہیں یا یہ لکھوں کہ خوف و دہشت کے سائے کس طرح کم نہیں ہو رہے ہیں ہر طرف چیخیں کراہیں لاشیں دھواں سسکتی جوانی بلکتی ممتا گم صم بچپن یا پھر بیروت کی کہانیاں لکھوں کشمیر کی سلگتی وادیوں کی ...

    مزید پڑھیے

    دیے کی لو

    دیے کی لو تھرتھرا رہی ہے یہ شام غم ہے کہ آفتوں کی سحر ہوئی ہے فصیل شب پر اداس جگنو کسی مسافر کی راہ تک کر لٹا چکا ہے تمام روشن بہار اپنی پرندے اڑنے کو مضطرب ہیں مویشی خانوں میں پھر مچی ہے عجیب ہلچل جو بچے ماؤں کی چھاتیوں سے لپٹ کے سوئے تھے جاگ اٹھے ہیں وہی تڑپ بھوک کی وہ شدت اذان ...

    مزید پڑھیے

    پیاس

    سرابوں میں چھپا رکھی ہے میں نے تشنگی اپنی مسلسل درد پی کر بھی نہیں بجھتی ہے پیاس اپنی چلو اشکوں کے پنگھٹ پر بجھائیں پیاس اپنی بھی تمہاری بھی

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2