ایک خط
ایک عرصے سے سوچ رہی ہوں کہ تم کو خط لکھوں لیکن کیا لکھوں یہی کہ اندھیرے کے بادل چھٹ نہیں رہے ہیں یا یہ لکھوں کہ خوف و دہشت کے سائے کس طرح کم نہیں ہو رہے ہیں ہر طرف چیخیں کراہیں لاشیں دھواں سسکتی جوانی بلکتی ممتا گم صم بچپن یا پھر بیروت کی کہانیاں لکھوں کشمیر کی سلگتی وادیوں کی ...