شاعری

حسن تدبیر بھی تھا خوبیٔ تقدیر بھی تھا

حسن تدبیر بھی تھا خوبیٔ تقدیر بھی تھا تو نے دیکھا ہی نہیں میں تری تصویر بھی تھا عمر بھر اہل محبت کو پتہ ہی نہ چلا وقت اس زخم جگر کے لئے زنجیر بھی تھا کیا ہوا اشک کہ جو زینت مژگاں ہو کر حاصل درد بھی تھا درد کی تفسیر بھی تھا تھی زباں بند تری بزم میں لیکن کچھ یوں دل دھڑکتا تھا کہ اک ...

مزید پڑھیے

روشنی دل میں نظر آئی ہے

روشنی دل میں نظر آئی ہے پھر کوئی چوٹ ابھر آئی ہے بن کے تحریر صبا درس جنوں ورق گل پہ اتر آئی ہے آئنہ دیکھنے والے تجھ کو کس کی تصویر نظر آئی ہے دل کے زخموں کا یہ عالم جیسے کہکشاں دل میں اتر آئی ہے شکریہ دشت کی ویرانی کا مجھ سے ملنے مرے گھر آئی ہے آج خوش یوں بھی ہوں نشترؔ کہ ...

مزید پڑھیے

وہی انداز دنیا ہے ابھی تک

وہی انداز دنیا ہے ابھی تک غم امروز و فردا ہے ابھی تک یہ دور ابتلا ہے اس میں انساں یہ کیا کم ہے کہ زندہ ہے ابھی تک اب آگے دیکھیے کیا فکر ہوگی یہیں تک ہم نے سوچا ہے ابھی تک ہوئی مدت ملے تھے لمحہ بھر کو وہی لمحہ نہ گزرا ہے ابھی تک اسی کو ڈھونڈھتی ہے آنکھ نشترؔ وہی دل کا تقاضہ ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی ملا تھا سر راہ اک زمانہ ہوا

کوئی ملا تھا سر راہ اک زمانہ ہوا پھر اس کے بعد کوئی ایسا سانحہ نہ ہوا کھلے جو پھول کرے احترام‌ زخم جگر یہ پھول وہ ہے جو منت کش صبا نہ ہوا ابھی سے ترک تعلق کا کیوں خیال آیا ابھی تو زیست کا مفہوم بھی ادا نہ ہوا مری صدا کہ رہی ہے صدائے بے آواز مگر یہ شہر نوا ہمرہ نوا نہ ہوا رہ وفا ...

مزید پڑھیے

مجھے پڑھو تو پڑھو میری داستاں سے الگ

مجھے پڑھو تو پڑھو میری داستاں سے الگ میں گلستاں میں بھی یوں ہوں کہ گلستاں سے الگ ہو کوئی وصل کا لمحہ کہ ہجر کا عالم حجاب شوق ہوا ہے نہ درمیاں سے الگ نقوش سجدہ زمانہ کہاں تلاش کرے مری جبیں سے جدا تیرے آستاں سے الگ یہ جاں نواز بہت ہے وہ کم سے کم جاں سوز بہار سے ہے شکایت جدا خزاں سے ...

مزید پڑھیے

سکوں کسی کو میسر نہیں چمن میں ابھی

سکوں کسی کو میسر نہیں چمن میں ابھی بہت سے خار ہیں پھولوں کے پیرہن میں ابھی نسیم صبح نے گل تو بہت کھلائے ہیں مگر بہار نہ آئی مرے چمن میں ابھی مجھے یہ ناز کہ اشکوں کو پی رہا ہوں میں انہیں یہ غم کی اندھیرا ہے انجمن میں ابھی چمن پہ ہے یہ کرم بوئے غنچہ و گل کا کہ ارتباط ہے باقی لب و ...

مزید پڑھیے

ڈر رہا ہوں کہ ڈر کی بات بھی ہے

ڈر رہا ہوں کہ ڈر کی بات بھی ہے بے رخی وجہ التفات بھی ہے دوستی ان دنوں خلوص کے ساتھ وجہ ترک تعلقات بھی ہے تیرا غم حاصل خوشی ہی نہیں تیرا غم حاصل حیات بھی ہے ہر نفس اک تصور غم نو کوئی حد تصورات بھی ہے ہنس کے پوچھا کلی سے اک گل نے مسکرانے کی کوئی بات بھی ہے دوستوں سے گریز نشترؔ ...

مزید پڑھیے

سنا ہے آج صبا مشک بار آئی ہے

سنا ہے آج صبا مشک بار آئی ہے بہت دنوں میں شب انتظار آئی ہے کلی کلی کے تبسم سے خندۂ گل تک فضا چمن کی کسے سازگار آئی ہے یہ کیا کہ خندۂ گل کا طلسم ٹوٹ گیا ہنسی لبوں پہ جو بے اختیار آئی ہے چٹک رہی ہیں یہ کس کے خیال کی کلیاں کہ دھڑکنوں کی صدا بار بار آئی ہے نگاہ شوق اگر جلوہ گاہ تک ...

مزید پڑھیے

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا بھی ہے

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا بھی ہے چشم نرگس دیدۂ بینا بھی ہے ان دنوں عالم ہے کچھ دل کا عجب حشر بھی برپا ہے سناٹا بھی ہے اک ہجوم دوستاں ہے اور میں دہر میں مجھ سا کوئی تنہا بھی ہے ہر طرف تعمیر دیواریں ہوئیں سوچتا یہ ہوں کہیں سایا بھی ہے کیوں نہ ہو فکر و خیال تشنگاں بند مجھ میں پیاس ...

مزید پڑھیے

واقف حال نسیم سحری ہے کہ نہیں

واقف حال نسیم سحری ہے کہ نہیں گود پھولوں سے گلستاں کی بھری ہے کہ نہیں بعد میں سوچنا کس در سے ہوئے تھے داخل پہلے دیکھو یہ وہی بارہ دری ہے کہ نہیں قافلہ لٹ بھی چکا راہنما سوچ میں ہے مجھ پہ الزام غلط راہبری ہے کہ نہیں میرا دل توڑنے والو یہ بتاؤ دنیا آج بھی کار گہہ شیشہ گری ہے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 832 سے 5858