شاعری

فصل گل آئی مگر چاک گریباں نہ ہوئے

فصل گل آئی مگر چاک گریباں نہ ہوئے لوگ تھے اتنے پریشاں کہ پریشاں نہ ہوئے بس یوں ہی بڑھتی رہی بڑھتی رہی تاریکی اور کچھ صبح کے آثار نمایاں نہ ہوئے ہم بھی آوارہ ہی پھرتے ہیں صبا کی مانند ہم بھی منت‌‌ کش ارباب گلستاں نہ ہوئے تیری آواز کسی نے نہ سنی ہو جیسے ہم تری بزم میں جس دن سے ...

مزید پڑھیے

ہو کے وارفتہ کہیں خود کو پکارا تو نہیں

ہو کے وارفتہ کہیں خود کو پکارا تو نہیں نام جو لب پہ ہمارے ہے تمہارا تو نہیں عالم تیرہ شبی مجھ کو گوارا تو نہیں میں کہ اشک سر مژگاں ہوں ستارا تو نہیں وقت کہتے ہیں کہ ہر زخم کو بھر دیتا ہے وقت نے میرا کوئی قرض اتارا تو نہیں روشنی بن کے ابھرنا نہیں آساں پھر بھی ڈوب کیا جاؤں کہ میں ...

مزید پڑھیے

درد ہی درد تھی منت کش درماں تو نہ تھی

درد ہی درد تھی منت کش درماں تو نہ تھی زندگی خواب تو تھی خواب پریشاں تو نہ تھی جب ہوا لے کے چلی تھی ترے کوچے کی طرف مری جانب نگراں گردش دوراں تو نہ تھی زندگی شہر غزالاں میں بگولوں کی طرح مجھ سے پہلے مری آواز پہ رقصاں تو نہ تھی ہر نفس ساتھ رہی ہے مرے سائے کی طرح آپ کی یاد مری عمر ...

مزید پڑھیے

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر بھڑک اٹھے گا یہ شعلہ سحر کی بات نہ کر بس ایک بار محبت سے دیکھنے والے یہ وہ کرم ہے کہ بار دگر کی بات نہ کر ترس نہ جائیں کہیں رنگ و بو کو اہل چمن گلوں کو دیکھ کے زخم جگر کی بات نہ کر متاع درد بڑھا اور مسکرائے جا شب فراق نمود سحر کی بات نہ کر نیا ...

مزید پڑھیے

اک شخص بھری بزم میں تنہا نظر آیا

اک شخص بھری بزم میں تنہا نظر آیا اپنا تو نہیں تھا مگر اپنا نظر آیا ہم تشنہ لبوں نے کبھی جا کر لب دریا دریا کو بھی دیکھا ہے تو پیاسا نظر آیا شبنم‌ زدہ پھولوں کے سوا صحن چمن میں اے آبلہ پایان جنوں کیا نظر آیا اے گھومتی‌‌ پھرتی ہوئی لاشو یہ بتاؤ انساں کوئی اس شہر میں زندہ نظر ...

مزید پڑھیے

نئی حیات نیا ساز دے رہا ہوں میں

نئی حیات نیا ساز دے رہا ہوں میں دل شکستہ کو آواز دے رہا ہوں میں ہے فخر یہ کہ مری زندگی ہے عجز و نیاز غرور یہ کہ تمہیں ناز دے رہا ہوں میں تری حسین جفاؤں سے لے کے درس وفا جنوں کو کچھ نئے انداز دے رہا ہوں میں یہ کس مقام پہ لے آئی بے خودی کہ تمہیں خود اپنے نام سے آواز دے رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کیا ہم نے انتظار سحر

تمام عمر کیا ہم نے انتظار سحر سحر ہوئی بھی تو آیا نہ اعتبار سحر بھٹک رہا ہے کہاں کاروان دیدہ و دل نہ یہ دیار شب غم نہ یہ دیار سحر سنبھل سنبھل کے چلے کاروان لالہ و گل یہ رہ گزار سحر ہے یہ رہ گزار سحر کسی کے حسن تبسم کی اک کرن چھو کر گلوں کو بخش دیا ہم نے اختیار سحر ترا خیال نہ آئے ...

مزید پڑھیے

ہم چل دیے تو راستے ہموار ہو گئے

ہم چل دیے تو راستے ہموار ہو گئے اور رک گئے تو سایۂ دیوار ہو گئے اب کیا پئیں شراب کہ ساقی بقدر ظرف تجھ سے نظر ملا کے گنہ گار ہو گئے دور خزاں میں جن کو تھا دیوانگی کا شوق فصل بہار آتے ہی ہوشیار ہو گئے اہل زمیں کو دیکھ کے کچھ ساکنان عرش حیراں ہوئے تو نقش بہ دیوار ہو گئے تا عمر ...

مزید پڑھیے

زندگی ایسی سزا ہے کہ سزا بھی تو نہیں

زندگی ایسی سزا ہے کہ سزا بھی تو نہیں دل دھڑکتا ہے دھڑکنے کی صدا بھی تو نہیں کیا خد و خال تھے کچھ یاد رہا بھی تو نہیں ایسا بچھڑا کوئی مدت سے ملا بھی تو نہیں آہٹیں کیا ترے قدموں کی سنائی دیں گی اب کہ پہلو میں دل نغمہ سرا بھی تو نہیں رہنوردان رہ عشق بھٹک ہی نہ سکیں اتنے تابندہ نقوش ...

مزید پڑھیے

نقوش عہد گذشتہ ابھارنے کے لئے

نقوش عہد گذشتہ ابھارنے کے لئے میں کھیلتا ہوں ہر اک کھیل ہارنے کے لئے ترا حسین تصور ہی کم نہیں اے دوست غم حیات کے گیسو سنوارنے کے لئے سمیٹ لے غم کونین اپنے دامن میں جنون عشق نیا روپ دھارنے کے لئے تمام عمر مری زندگی رہی بیتاب سکون کا کوئی لمحہ گزارنے کے لئے جگر کے زخموں پہ کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 833 سے 5858