شاعری

لہو لہان تھا منظر ہوا شکستہ تھی

لہو لہان تھا منظر ہوا شکستہ تھی ہمارے چاروں طرف اک عجیب دنیا تھی مری نگاہ اترتی چلی گئی اندر ہر ایک شکل مرے سامنے برہنہ تھی کسی صدی کا بھی طوفان ڈھا سکا نہ اسے یہ اور بات کہ دیوار وقت خستہ تھی گزر چکی ہے جو اب اس کی جستجو نہ کرو وہ زندگی تو کسی خواب کا کرشمہ تھی ہزاروں عکس پس ...

مزید پڑھیے

ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دے

ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دے برہنہ راہ کو پیراہن صدا بھی دے میں ایک سادہ ورق ہوں تری کہانی کا جو ہو سکے تو مجھے داستاں بنا بھی دے ہمارے درمیاں حائل ہے دشمنوں کی طرح جو ہو سکے تو یہ دیوار خوف ڈھا بھی دے جنم جنم سے ہم اپنی تلاش میں گم ہیں ہم اہل درد کو ہم سے کبھی ملا بھی ...

مزید پڑھیے

نہ سنگ راہ نہ سد قیود کی صورت

نہ سنگ راہ نہ سد قیود کی صورت میں ڈھ رہا ہوں اب اپنے وجود کی صورت جگہ پہ اپنی جما ہے وہ سنگ کی مانند بکھر رہا ہوں میں دیوار دود کی صورت جبیں پہ خاک تقدس ہوں مجھ کو پہچانو چمک رہا ہوں میں نقش سجود کی صورت مری نظر میں تیقن کی دھوپ روشن ہو کبھی تو پھیلے وہ رنگ شہود کی صورت گذشتہ ...

مزید پڑھیے

کسے سکون ملے زندگی کے پہلو میں

کسے سکون ملے زندگی کے پہلو میں رواں ہے غم کا سمندر خوشی کے پہلو میں سمندروں سے کہو میرا ظرف بھی دیکھیں کہ ایک عمر سے ہوں تشنگی کے پہلو میں سمجھ رہا ہوں جسے بے قراریوں کا سبب قرار آئے تو شاید اسی کے پہلو میں یہ مہر و ماہ وہ دنیا تلاش کرتے ہیں کہ روشنی ہو جہاں روشنی کے پہلو ...

مزید پڑھیے

غلط کہ سعئ جنوں خیز رائیگاں نہ گئی

غلط کہ سعئ جنوں خیز رائیگاں نہ گئی بہار آئی چمن میں مگر خزاں نہ گئی دل و نظر کا یہی فاصلہ حیات بھی ہے پہنچ گیا ہے جہاں دل نظر وہاں نہ گئی چٹک کے غنچہ تو خاموش ہو گیا لیکن شکست دل کی صدا تھی کہاں کہاں نہ گئی تھے رفتگاں میں سبھی رونق جہاں کا سبب کسی کے ساتھ مگر رونق جہاں نہ ...

مزید پڑھیے

جا پہنچتے ہیں سر دار قضا سے پہلے

جا پہنچتے ہیں سر دار قضا سے پہلے کتنے منصور انا الحق کی صدا سے پہلے حسن تنظیم کو کہتے ہیں ترستی ہی رہی کہکشاں میرے نقوش کف پا سے پہلے سوچتا ہوں کہ کبھی میں نے سنی ہے کہ نہیں کوئی آواز دل نغمہ سرا سے پہلے تھا غم زیست مگر کب تھا شعور غم زیست اہل دل اہل نظر اہل وفا سے پہلے قیمت دار ...

مزید پڑھیے

گلشن میں کوئی چاک گریباں بھی نہیں ہے

گلشن میں کوئی چاک گریباں بھی نہیں ہے اور فصل بہار آنے کا امکاں بھی نہیں ہے ہم نقد دل و جاں بھی لٹا آئے سر بزم اور آپ پہ اس کا کوئی احساں بھی نہیں ہے کس منہ سے کرے تیرے تغافل کی شکایت جس پر کرم گردش دوراں بھی نہیں ہے پوچھے جو کوئی حال تو کیا حال بتائے وہ شخص جو کچھ دن سے پریشاں بھی ...

مزید پڑھیے

اسیر وعدۂ بے اعتبار بیٹھے ہیں

اسیر وعدۂ بے اعتبار بیٹھے ہیں جہاں پہ چھوڑ گئی تھی بہار بیٹھے ہیں نسیم‌ صبح بہاری ادھر نہ آ کہ ادھر فریب خوردۂ فصل بہار بیٹھے ہیں بگولے رقص میں پھر آ گئے ہیں اور ہم لوگ ابھی تو جھاڑ کے گرد و غبار بیٹھے ہیں ہے لب پہ آہ فلک پر نگاہ تنگ زمیں وطن نصیب غریب الدیار بیٹھے ہیں کبھی تو ...

مزید پڑھیے

اک کہانی

ہم پر تھی پیارے بچو نانی کی مہربانی روزانہ رات کو وہ کہتی تھیں اک کہانی اک رات کو سنایا برسات کا فسانہ کہنے لگیں کہ موسم اک روز تھا سہانا تھا دیکھنے کے قابل فوارہ آسمانی دریا سے لا کے بادل برسا رہے تھے پانی تالاب بن گیا تھا آنگن ہمارے گھر کا ٹہنی پے اس کی بچو بیٹھا تھا ایک طوطا اس ...

مزید پڑھیے

دل پہ جور و ستم گراں نہ ہوئے

دل پہ جور و ستم گراں نہ ہوئے کیسے کہہ دوں وہ مہرباں نہ ہوئے ہائے یادوں کے وہ نقوش حسیں مٹ گئے اور بے نشاں نہ ہوئے دیکھنے والے صورت شبنم صورت بحر بیکراں نہ ہوئے سوچتا ہوں وہ اشک کیا ہوں گے جو ابھی زیب داستاں نہ ہوئے غم تو یہ ہے کہ گلستاں میں سب پھول کانٹوں کے درمیاں نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 831 سے 5858