نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے
نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے اس اعتبار سے درد فراق راس تو ہے اثر پذیر بھی ہو گر نہیں ہے یہ مقدور مری بساط میں اک عرض التماس تو ہے یہ شہر چھوڑ کے جانے کو جی نہیں کرتا وہ میرے پاس نہیں میرے آس پاس تو ہے بظاہر اس کے تر و تازہ ہونٹ جو بھی کہیں بجھا نہ پائے جو پانی انہیں وہ ...