شاعری

نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے

نہ ساتھ خوش تھا بچھڑ کے وہ کچھ اداس تو ہے اس اعتبار سے درد فراق راس تو ہے اثر پذیر بھی ہو گر نہیں ہے یہ مقدور مری بساط میں اک عرض التماس تو ہے یہ شہر چھوڑ کے جانے کو جی نہیں کرتا وہ میرے پاس نہیں میرے آس پاس تو ہے بظاہر اس کے تر و تازہ ہونٹ جو بھی کہیں بجھا نہ پائے جو پانی انہیں وہ ...

مزید پڑھیے

اب ہے اس درجہ پریشانی کیوں

اب ہے اس درجہ پریشانی کیوں دل کی ضد تھی نہ بجا مانی کیوں دل آوارہ منش کے ہم راہ عقل ہو جاتی ہے دیوانی کیوں عشق صادق کی اگر قلت ہے حسن کی ہے یہ فراوانی کیوں آپ جب آ گئے جان رونق ہے بدستور یہ ویرانی کیوں نفسیات اس کی بتاؤ شوکتؔ فن یہ اس درجہ ہے نفسانی کیوں

مزید پڑھیے

یوسف کی طرح کیوں کوئی بازار میں آئے

یوسف کی طرح کیوں کوئی بازار میں آئے جو نرخ بھی اب طبع خریدار میں آئے ملتی ہی نہیں قید تمنا سے رہائی ہم کس قفس بے در و دیوار میں آئے بن بن کے سوانح مری ہر واقعہ گزرا سب لوگ سمٹ کر مرے کردار میں آئے وہ عشق نہیں ہے کہ ہویدا ہو نظر سے اخلاص کہاں معرض اظہار میں آئے بندوں کے تصرف میں ...

مزید پڑھیے

مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہے

مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہے خزاں سے بڑھ کے گلوں پر ستم بہار کا ہے جب آئے ہوش نہ تھا کس نگر سے آئے ہیں چلے تو علم نہیں قصد کس دیار کا ہے بیاں یہی سر منبر کریں گے پھر نکتہ ہمارے واسطے جس پر یہ حکم دار کا ہے ہر ایک ذرے کو ہے آفتاب کی توفیق ہر ایک بوند میں امکان آبشار کا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

ہمارا طائر دل کب ہمارے بس میں ہے

ہمارا طائر دل کب ہمارے بس میں ہے رہائی میں اسے تکلیف خوش قفس میں ہے بڑھوں اگر تو کسی تک مری رسائی نہ ہو رکوں تو یوں لگے وہ میری دسترس میں ہے کسے کسے یہ بتاؤں ترے تعلق سے کچھ امتیاز محبت میں اور ہوس میں ہے کشاں کشاں ہے روانہ مرا مسافر دل تری لطیف صدا نغمۂ جرس میں ہے تمام عمر رہا ...

مزید پڑھیے

کسی تمنا کسی دعا میں اثر نہیں ہے

کسی تمنا کسی دعا میں اثر نہیں ہے خدا یقیناً ہے وہ ہمارا مگر نہیں ہے عدو ہی مل جائے فی‌ زمانہ کوئی مصمم رفیق تو خیر کوئی بھی معتبر نہیں ہے یہ مسئلہ اور ہے کہ چپ ہیں زباں داں سب معاملہ یہ نہیں کوئی باخبر نہیں ہے وہی ہے کیفیت اسیری محیط اگرچہ کھلی ہے زنجیر بند زنداں کا در نہیں ...

مزید پڑھیے

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا

دوست کو محرم بنا کر دشمن جاں کر دیا تو نے اے دل آپ بربادی کا ساماں کر دیا لغزش آدم تو ہم تک آئی ہے میراث میں دیوتا ہوتے اسی خوبی نے انساں کر دیا راز کو جتنا چھپایا اور افشا ہو گیا تیرا چہرہ اور آنچل نے نمایاں کر دیا مہرباں نے غم غلط کرنے کی رکھی یہ سبیل جب پڑا ہے قحط مے تو زہر ...

مزید پڑھیے

کیسے گزر رہے ہیں یہ دن رات کیا کہیں

کیسے گزر رہے ہیں یہ دن رات کیا کہیں مجھ سے چھپے ہوئے نہیں حالات کیا کہیں سب چشمہ ہائے چشم بہے پھوٹ پھوٹ کے جس طرح اب کے برسی ہے برسات کیا کہیں کیا حادثہ تھا ہجر رفیقاں بتائیں کیا کیا سانحہ تھا ان سے ملاقات کیا کہیں تم جان لو حبیب جو محسوس کر سکو کہنے کی بھی نہیں ہے ہر اک بات کیا ...

مزید پڑھیے

جھانک کر ذات کے اندر یہ تماشا دیکھو

جھانک کر ذات کے اندر یہ تماشا دیکھو شہر صحرا میں کبھی شہر میں صحرا دیکھو بہتے دریا میں نظر آئے ہر اک بوند الگ یہ نہیں معجزہ گر بوند میں دریا دیکھو صوفیو معرفت اہل صفا تو یہ ہے کبھی انسان میں انساں کا سراپا دیکھو قرمزی رنگ لہو سے ہے پسینہ میرا اور ارباب ہوس رنگ تمنا دیکھو عمر ...

مزید پڑھیے

اجڑے ہوئے دل میں بھی ترا دھیان رہا ہے

اجڑے ہوئے دل میں بھی ترا دھیان رہا ہے شہروں سے بھی آباد بیابان رہا ہے ہم نے تجھے سو رنج میں چھوڑا تھا مگر دوست دل ترک تعلق پہ پشیمان رہا ہے شاید یہ کسی تازہ مصیبت کے ہے در پے کچھ روز سے دل میرا کہاں مان رہا ہے ڈھونڈا جسے تا عمر کہیں وہ تو نہیں تم ٹھہرو تو سہی دل تمہیں پہچان رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 760 سے 5858