شاعری

جس کی رہی تلاش ہمیشہ وہ تو نہ ہو

جس کی رہی تلاش ہمیشہ وہ تو نہ ہو ممکن ہے تو ملے تو کوئی جستجو نہ ہو تو ہی بتا یہ عشق کا ہے کون سا مقام دل کو یہ آرزو ہے تری آرزو نہ ہو حسن تہی وفا کبھی اس پھول کو بھی دیکھ جس میں جمال رنگ تو ہو اور بو نہ ہو یوں ہے کسی کی کیفیت چشم کی ہوس جیسے کہیں شراب نہیں یا سبو نہ ہو اے دوست میرے ...

مزید پڑھیے

کسی کی چشم سادہ یاد آئی

کسی کی چشم سادہ یاد آئی حریف جام و بادہ یاد آئی ہوئی ہر عافیت مدفون جس میں وہ دیوار فتادہ یاد آئی سواد دیر و کعبہ میں پہنچ کر تری محفل زیادہ یاد آئی کسی کو بے تمنا بھول بیٹھے کسی کی بے ارادہ یاد آئی زمانے سے ہوا دل تنگ جب بھی وہ آغوش کشادہ یاد آئی کبھی تجھ کو بھی اے صحبت ...

مزید پڑھیے

تھی جو انہونی اسی بات کو کرتے دیکھا

تھی جو انہونی اسی بات کو کرتے دیکھا جیتے جی دل کو کئی مرتبہ مرتے دیکھا وقت کو رنج میں ٹھہرا ہوا پایا ہم نے برق پا گر اسے راحت میں گزرتے دیکھا رو کے جی ہو گیا ہلکا تو دمک اٹھا منہ پھول کو اوس کی بوندوں سے نکھرتے دیکھا پیار ہی پیار میں جو زخم لگایا تھا کبھی تازہ کچھ اور اگا جب اسے ...

مزید پڑھیے

غم میں خوشی خوشی میں کبھی غم بدل گئے

غم میں خوشی خوشی میں کبھی غم بدل گئے باہم خواص شعلہ و شبنم بدل گئے اے عمر رائیگاں نہ کھلا غنچۂ مراد پلٹی کئی رتیں کئی موسم بدل گئے دیرینہ طبع لوگ ہیں ہم تو روایتاً بدلے بہت زیادہ اگر کم بدل گئے تیری نگاہ ہی نہ مری جاں بدل گئی محسوس ہو رہا ہے دو عالم بدل گئے دشمن تھے وضع دار تھے ...

مزید پڑھیے

تم پلاؤ یہ کم غنیمت ہے

تم پلاؤ یہ کم غنیمت ہے مے نئی ہے تو سم غنیمت ہے ہے خوشی کی بھی کیفیت معلوم ہو میسر تو غم غنیمت ہے تم نہ آئے سحر تو آ ہی گئی دم بہ دم دم بہ دم غنیمت ہے اس میں سنگ گراں بھی ملتے ہیں راہ کا پیچ و خم غنیمت ہے رات دن آسماں ہیں چکر میں مل جو بیٹھیں بہم غنیمت ہے زندگانی کا اعتبار ...

مزید پڑھیے

ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں

ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں دوست بھی رکھتے ہیں تو دشمن جاں رکھتے ہیں طبعاً انسان تو دل دادۂ فصل گل ہے ہم عجب لوگ ہیں جو ذوق خزاں رکھتے ہیں عارض گل ہو لب یار ہو جام مے ہو جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں واقعہ یہ بھی ہے حق بات نہیں کہہ سکتے یہ بھی دعویٰ ہے بجا منہ ...

مزید پڑھیے

نظر نواز وہ پہلی سی ہستیاں نہ رہیں

نظر نواز وہ پہلی سی ہستیاں نہ رہیں روا ہمارے لیے بت پرستیاں نہ رہیں فضا ہی وہ نہیں دیہات اور شہروں کی بسائی تھیں جو کبھی اب وہ بستیاں نہ رہیں تری نگاہ سے پینے کی آرزو کی تھی پھر اس کے بعد شرابوں میں مستیاں نہ رہیں یہ اور بات ترا دل نہ ہو سکا شاداب وگرنہ آنکھیں مری کب برستیاں نہ ...

مزید پڑھیے

بھولتے جاتے ہیں یادوں میں سمانے والے

بھولتے جاتے ہیں یادوں میں سمانے والے جیسے اب واقعی رخصت ہوئے جانے والے سائے کے واسطے تعمیر کریں گے پھر لوگ دھوپ کے واسطے دیوار گرانے والے رائیگاں عہد پس عہد گئی قربانی خوں بہا لے گئے خود خون بہانے والے وقت کو ساتھ لیے آئے یہاں تک ہم ہی ہو گئے لوگ ہمیں اگلے زمانے والے یہ جہاں ...

مزید پڑھیے

گرد رہ کارواں رہے ہیں

گرد رہ کارواں رہے ہیں ہم منزلوں کے نشاں رہے ہیں کچھ ہم بھی رہے ہیں اپنے دشمن کچھ آپ بھی مہرباں رہے ہیں کشتی ہی نہ لگ سکی کنارے دریا تو بہت رواں رہے ہیں جب تم ہمیں یاد آ گئے ہو اے دوست تو ہم کہاں رہے ہیں معلوم ہوا کہ جان جاں تک حائل ہمیں درمیاں رہے ہیں اب یوں نہ یہ بستیاں ...

مزید پڑھیے

آئے کیا آپ کی پناہ میں ہم

آئے کیا آپ کی پناہ میں ہم گھر میں محفوظ ہیں نہ راہ میں ہم ہاں وہی طمطراق کا رشتہ دیکھتے ہیں سر و کلاہ میں ہم اور بھی مورد ثواب ہوئے مبتلا جب سے ہیں گناہ میں ہم مدعی تھے ہزار خوبی کے پر نہ آئے کسی نگاہ میں ہم علم سے مدرسے میں شوکتؔ دور اور عرفاں سے خانقاہ میں ہم

مزید پڑھیے
صفحہ 761 سے 5858