شاعری

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی شہر میں رونق ہوئی تو اور ویرانی بڑھی عقل کی منطق سے بڑھ کر ہے جنوں نکتہ نواز ہیں عیاں اسرار ہستی اب کہ حیرانی بڑھی جس قدر بڑھتی گئی ہے عمر کم ہوتی گئی جس قدر گھٹتی گئی ہے اور نادانی بڑھی قابل ذکر اک یہی قصہ ہے آزادی کے بعد اور پابندی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی میری جو ہے اوقات کبھی ختم نہ ہوگی مل جائیں کسی موڑ پہ اک روز جو ہم تم پھر پیار کی سوغات کبھی ختم نہ ہوگی آ جاؤ کے ہم راہ تری دیکھ رہے ہیں آؤ گے تو پھر رات کبھی ختم نہ ہوگی وعدہ یہ کرو مجھ سے ملاقات یہ تیری تا عمر ملاقات کبھی ختم نہ ہوگی کہتے ...

مزید پڑھیے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے دیکھتے دیکھتے ہم سنور جائیں گے زندگی یہ مری آپ کے نام ہے بے وفا ہوں گے تو کدھر جائیں گے زندگی کے لئے زندگی چاہیے آپ ملتے رہے تو نکھر جائیں گے دوریاں اتنی ہم کو گوارا نہیں کیا کریں گے یہاں ہم تو مر جائیں گے شازیہؔ آدمیت یہی ہے اگر دیکھنا اک دن ہم ...

مزید پڑھیے

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے حوصلے دل ہی دل میں مچلتے رہے دوستوں نے تو کانٹے بچھائے بہت مسکراتے ہوئے ہم بھی چلتے رہے کوئی پھولوں سے دامن کو بھر لے گیا ہم کھڑے باغ میں ہاتھ ملتے رہے اس کی بھرپور الھڑ جوانی پہ ہم مسکراتے سسکتے مچلتے رہے راستے منزلیں دور ہوتی گئیں میری فطرت ...

مزید پڑھیے

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ وفور غم میں کمی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نتیجہ جہد مسلسل کا آگے کیا ہوگا محل فکر یہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ کشاکش غم دوراں میں زندہ رہنے کی تمہی سے داد ملی ہے ذرا ٹھہر جاؤ یہ بات تم سے کوئی اور کہہ نہیں سکتا یہ بات دل نے کہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ تمہارے جانے کے احساس ...

مزید پڑھیے

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں دور کی روشنی سے ڈرتا ہوں دیکھ کر بستیوں کی ویرانی اب تو ہر آدمی سے ڈرتا ہوں عقل تاروں کو چھو کے آتی ہے اور میں چاندنی سے ڈرتا ہوں پہلے ڈرتا تھا تیرگی سے میں اور اب روشنی سے ڈرتا ہوں میری بے چارگی تو یہ بھی ہے آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں یہ بھی اک پھانس بن ...

مزید پڑھیے

اس لئے میں جرم مے نوشی پر آمادہ نہ تھا

اس لئے میں جرم مے نوشی پر آمادہ نہ تھا لمس ساقی کے لبوں کا شامل بادہ نہ تھا جس پہ گل بوٹے نہ تھے اس پر منقش تھے خدنگ زیست کی ارژنگ کا کوئی ورق سادہ نہ تھا اب تمنا گاہ کیوں ویران ہے اس کے بغیر میں کبھی سنجیدگی سے جس کا دل دادہ نہ تھا میرے دل میں بھی تھے ابرو اور آنچل جا بہ جا کس ...

مزید پڑھیے

میں چلا جاؤں گا رہ جائے گا افسانہ مرا

میں چلا جاؤں گا رہ جائے گا افسانہ مرا ذکر کرتے ہی رہیں گے سب حریفانہ مرا مے مجھے ممنوع ساغر دسترس سے دور ہے اور فرماتا ہے ساقی ہے یہ مے خانہ مرا اب تو جانا ہی نہیں ہوتا ہے وعدہ گاہ میں مدتوں تک یہ رہا معمول روزانہ مرا کھینچتا ہے کون سا احساس اب اس کی طرف ہو چکا ہے جس سے یکسر قلب ...

مزید پڑھیے

دھڑکن سا کوئی دل میں سوا بول رہا ہے

دھڑکن سا کوئی دل میں سوا بول رہا ہے اس ساز میں خود نغمہ سرا بول رہا ہے کھلتا ہی نہیں تیرا طلسم لب و لہجہ کیا جانیے خاموش ہے یا بول رہا ہے ہر شخص نہیں دار کا شائستہ وگرنہ ہر شخص کے پردے میں خدا بول رہا ہے یہ لفظ کہ چڑھ کر ہوا تھا گنگ زباں پر کاغذ پر اتارا ہے تو کیا بول رہا ہے یہ وہ ...

مزید پڑھیے

پھول سے ڈھلکا ہوا اوس کا قطرہ ہوں میں

پھول سے ڈھلکا ہوا اوس کا قطرہ ہوں میں شاخ سے ٹوٹ کے گرتا ہوا پتا ہوں میں چھوڑ کے چل دیا ہے جیسے بدن ہی مجھ کو جس کی پہچان نہیں کوئی وہ سایہ ہوں میں جو کہ در آیا تھا روزن سے کرن کے ہم راہ تیرے کمرے میں وہ بے فائدہ ذرہ ہوں میں وادیٔ و کوہ و بیاباں سے گزر کر آخر شہر میں آ کے جو کھو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 759 سے 5858