شاعری

ذرہ ذرہ ہے اسے مہر منور نہ کہو

ذرہ ذرہ ہے اسے مہر منور نہ کہو قطرہ ہر حال میں قطرہ ہے سمندر نہ کہو بت طناز کو اخلاص کا پیکر نہ کہو دشمن مہر و وفا کو فن آذر نہ کہو کہیں پھوٹی ہے کبھی ان سے وفا کی خوشبو لب معشوق کو اوراق گل تر نہ کہو رنگ اور نسل کی تفریق مٹانے کے لئے مصلحت ہے اسے بہتر اسے کمتر نہ کہو غم کی جب آنچ ...

مزید پڑھیے

جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیا

جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیا تب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیا بس اک نگاہ سے اس کی سدا رہے مخمور کبھی نہ جام اٹھایا نہ شغل بادہ کیا فریب دے کے بھی اس کا قصور کم ہی رہا کہ ہم نے اس پہ بھروسہ بھی کچھ زیادہ کیا شرافت اور نجابت کا اس کو غرہ ہے حسب نسب سے سوا ذکر خانوادہ کیا جہان ...

مزید پڑھیے

کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کرو

کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کرو جو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کرو خلوص اور محبت سے نیک کام کرو یہ مے کدہ ہے سبھی کو شریک جام کرو جو میکدے سے نکالے گئے تو کیا ہوگا میں محتسب ہوں یہاں میرا احترام کرو تمہارے قرب سے دل کو سکون ملتا ہے مرے قریب ہی بیٹھو نہ کچھ کلام کرو وہ ایک شام کہ ...

مزید پڑھیے

کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کا

کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کا رہا ہی کیا ہے غم معتبر گیا کب کا مجھے بھی دیکھ کہ میں ایک نقش حیرت ہوں دکھا کے آئنہ آئینہ گر گیا کب کا تلاش صحرا بہ صحرا جسے کیا میں نے وہ میری روح کے اندر اتر گیا کب کا دعا رہین اثر ہے یہ بات سچ ہے مگر مری دعا سے یقیناً اثر گیا کب کا نہ سنگ میل نہ ...

مزید پڑھیے

زندگی اک وبال ہے صاحب

زندگی اک وبال ہے صاحب اب تو جینا محال ہے صاحب آپ جو کچھ کہیں وہی سچ ہے بے سبب قیل و قال ہے صاحب آپ کی بے رخی ہمارے لئے زندگی کا سوال ہے صاحب غم دنیا ہو یا غم عقبیٰ نعمت لا زوال ہے صاحب اس نے پوچھا ہے آج میرا مزاج اب طبیعت بحال ہے صاحب ہم محبت کی بات کرتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے ...

مزید پڑھیے

امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے

امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے وہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہے ابھی تو شام ہے تنقید کر نہ رندوں پر سنا ہے رات گئے مے کدہ سنبھلتا ہے نہ کوئی خوف نہ اندیشہ اور نہ رخت سفر یہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے ہمارے واسطے جس جا پہ حد فاصل ہے وہیں سے ایک نیا راستہ نکلتا ہے عجیب چیز ہے ...

مزید پڑھیے

جھلک ذرا سی دکھا کر کہیں کھو جاتی ہے

جھلک ذرا سی دکھا کر کہیں کھو جاتی ہے غنودگی کا وہ اک بیج یوں بو جاتی ہے گمان سے مرے باہر ہے ماں کی قربانی کہ بچوں کو کھلا کر بھوکی خود سو جاتی ہے ضرورتیں کسی کو مت بتا بجز رب کے واں آبرو نہیں جاتی مدد ہو جاتی ہے کبھی تو عشق الٰہی میں آنکھ نم ہو یہ سنا ہے عشق ہو سچا تو یہ رو جاتی ...

مزید پڑھیے

ابھی قائل ہوئے ہی تھے تمہاری رہنمائی کے

ابھی قائل ہوئے ہی تھے تمہاری رہنمائی کے تبھی انجام دیکھے کچھ خداؤں کی خدائی کے یوں مجھ سے دور جانے کا سفر یہ رائیگاں ہوگا کبھی وہ دن نہ بھولیں گے تیری مجھ سے رہائی کے دلوں سے جو نکلتی ہے مٹائے سے نہیں مٹتی نہیں جاتے کبھی یہ رنگ دل کی روشنائی کے دیے کے ایک اشارے پر لپک کر جان ...

مزید پڑھیے

بیڑیاں ڈال دے آزاد ہوئی جاتی ہے

بیڑیاں ڈال دے آزاد ہوئی جاتی ہے زندگی عشق میں برباد ہوئی جاتی ہے دل کی بستی میں کوئی اور نہ آیا مالک تیری دنیا ہے جو آباد ہوئی جاتی ہے عشق کے کھیل میں فرہاد ہوا ہے شیریں کوئی شیریں ہے جو فرہاد ہوئی جاتی ہے کھو چکا ہوں تجھے پر آج بھی تیری خاطر ہاتھ اٹھ جاتے ہیں فریاد ہوئی جاتی ...

مزید پڑھیے

سچ مچ اپنے رانجھے کو ہی گھائل کر کے چھوڑ دیا

سچ مچ اپنے رانجھے کو ہی گھائل کر کے چھوڑ دیا اچھا خاصا لڑکا تو نے پاگل کر کے چھوڑ دیا رت آئے رت جائے بیرن ہر موسم میں برسی ہیں تیرے غم نے ان آنکھوں کو بادل کر کے چھوڑ دیا کوئی ٹک کر کب رہتا ہے دنیا آتی جاتی ہے تیرے جانے نے تو مجھ کو قائل کر کے چھوڑ دیا اتنا خالی ہو بیٹھا ہوں سب کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4028 سے 5858