شاعری

اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر

اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر یوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبر ایسے میں سوچتا ہوں کسے معتبر کہوں ملتا نہیں ہے جب کوئی کردار معتبر رہزن چھپے ہوئے ہیں پس سنگ میل راہ مطلق نہیں ہے سایۂ اشجار معتبر تاریک شب ہے اور لرزتے ہوئے چراغ لگتے نہیں ہیں صبح کے آثار معتبر کہنے کو سرفروش ...

مزید پڑھیے

کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناں

کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناں عزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاں یہ ہم سے پوچھو جلال و جمال کیا شے ہے ہمارے گرد رہا ہے ہجوم ماہ وشاں مری نگاہ کو ہے دید کی کہاں فرصت ہیں یوں تو جلوے ہی جلوے فضا میں رقص کناں سکوں ہے کار گہ زیست میں کہاں یارو کشاں کشاں لئے پھرتی ہے گردش ...

مزید پڑھیے

چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ

چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ ان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑ ہے نظر انداز کوئی کوئی منظور نظر دیکھنا اس بت کی چشم فتنہ زا کے جوڑ توڑ کج ادائی بات ہے جس کی لگاوٹ کھیل ہے سیکھ لے اس فتنہ گر سے کوئی آ کے جوڑ توڑ پا کے قابو کرتے ہیں اہل غرض کیا داؤں گھات چلتے ہیں مطلب ...

مزید پڑھیے

شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے

شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے صبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہے اپنا پیمانۂ دل ہے مئے غم سے لبریز بوند سے بادۂ عشرت کی چھلک جاتا ہے کمر یار کی لکھتا ہوں نزاکت جس دم خامہ سو مرتبہ کاغذ پہ لچک جاتا ہے یاد آتی ہے کبھی صحبت احباب اگر ایک شعلہ ہے کہ سینے میں بھڑک جاتا ...

مزید پڑھیے

مجھے ڈھونڈنا بڑا آسان ہے

میں جلتا رہتا ہوں دو حصوں میں میں جینے کی کوشش نہیں کرتا لوگ مجھے جینا چاہتے ہیں یوں ہی بکھرے وجودوں میں وہ مجھے چن چن کر اوڑھ لیتے ہیں بھوکے پیٹوں بے حیات پوروں میں کوئی لفظ نہیں ہوتا جانے کیوں میں ان کی زبان کی گالی بن جاتا ہوں میں ننگ نفس میں اٹھتا ہوں بیٹھتا ہوں کوئی غیر مرئی ...

مزید پڑھیے

شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے

ایک شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ وہ خوش ہے یا نا خوش ہنستا ہے یا روتا ہے یا روتے میں ہنستا ہے کچھ بھی فیصلہ انداز انداز میں کہا جا سکتا کہ کچھ کہنے سے پہلے کیا سوچتا ہے کمرے کی چار دیواری میں مرنا نہایت آسان ہے مگر لفظوں کی اس گونا گوں دنیا میں ایک شاعر کی زندگی ...

مزید پڑھیے

یقین کی کوئی حد نہیں ہوتی

میرے اطمینان کے لئے نیلے سمندر حسین جھیل یا کسی گھاس سے لپٹے ہوئے تالاب کا ذکر ضروری نہیں میرا یقین سمندر جھیل اور ایک تالاب سے زیادہ سادہ ہے یہ آنکھوں پہ ہی اعتبار کر لیتا ہے آنکھیں چاہے سوکھی ہوں یا پر آشوب ان کی گہرائی کا مقابلہ پانی سے نہیں کیا جا سکتا آنکھیں خوش ہوں یا ...

مزید پڑھیے

ہوا ایک قلم ہے

میں نے ہواؤں کا گیت سننا چاہا مگر سن نہ سکا گیت بازاری بھاؤ تاؤ سے کتراتے ہیں اور یہاں وحشت زدہ آوازوں میں سے ترنم کی علیحدگی کا کوئی بندوبست نہیں جب میں سویا ہوا تھا ہوا بھوکے بچوں کی لوری بن گئی تھی میں ہوا کو معطر محسوس کرنا چاہتا ہوں مگر یہ ہمیشہ جھلسی ہوئی لاشیں ڈھونڈ لیتی ...

مزید پڑھیے

خواب اور کونپلیں

رات کے لمبے سائے پیروں سے آ لپٹتے ہیں اے میرے ہم سفر ہمہ تن گوش رہنا رقص سے ذرا دیر پہلے گرم خون کی لو ناچتی ہے اور بیتابی ہمیشہ چاند کو پاؤں لگا دیتی ہے ہم کسی دن یا سورج کی بات نہیں کر رہے کیا تمہیں پتا نہیں خواب اور کونپلیں رات کو اگتی ہیں اور دن میں کاٹی جاتی ہیں

مزید پڑھیے

تصور میں بہت کیں انجمن آرائیاں ہم نے

تصور میں بہت کیں انجمن آرائیاں ہم نے سلیقے سے گزاریں اس طرح تنہائیاں ہم نے عجب کیا ہے جو تم نے وقت کی انگڑائیاں دیکھیں بدل ڈالی ہیں اکثر وقت کی انگڑائیاں ہم نے وہیں پر آج شور نالہ و شیون بپا دیکھا جہاں دیکھی تھیں کل بجتی ہوئی شہنائیاں ہم نے ہزاروں کلفتیں تھیں زندگی کی راہ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4027 سے 5858