شاعری

فلک نے چاند نے تاروں نے خودکشی کر لی

فلک نے چاند نے تاروں نے خودکشی کر لی تمہارے ہجر کے ماروں نے خودکشی کر لی میں اپنے خواب سجا کر جہاں جہاں پہنچا وہاں وہاں کے نظاروں نے خودکشی کر لی خزاں کا رنگ چڑھا جب میری جوانی پر میرے چمن کی بہاروں نے خودکشی کر لی کیا تھا ضبط مگر توڑ کر بہا دریا تھکے تھکے سے کناروں نے خودکشی ...

مزید پڑھیے

پہلے جھوٹا سچا وعدہ کر لے گی

پہلے جھوٹا سچا وعدہ کر لے گی پھر دنیا چاہت کا سودا کر لے گی اس کے بچھوئے پیروں میں جب پہنوں گی میری پائل تم سے جھگڑا کر لے گی ذکر ہمارا محفل میں کرکے دیکھو وہ محفل سے خود کو تنہا کر لے گی جنت کا پٹ دھیرے دھیرے کھلتا ہے پہلے تو شرما کر پردا کر لے گی

مزید پڑھیے

نہ یہ زمین ہے اپنی نہ آسماں اپنا

نہ یہ زمین ہے اپنی نہ آسماں اپنا الگ بنائیں ہم اپنے لئے جہاں اپنا خیال شکوۂ زنداں کسے اے باد چمن نہیں بہار سے کم موسم خزاں اپنا چمن کا لطف ہی کیا جب کہ بال و پر نہ رہے بنا لیا ہے قفس ہی کو آشیاں اپنا ہیں سخت جان ہم ان کی کلائیاں نازک یہ امتحان ہے ان کا کہ امتحان اپنا ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ

خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ آج کے دیدہ ور کا حال ہے یہ تم مرے دل میں کیوں نہیں آتے شہر رعنائی جمال ہے یہ میرے چہرے پہ کچھ نہیں تحریر صرف عنوان عرض حال ہے یہ وجہ ناکامئ وفا کیا ہے آپ سے آخری سوال ہے یہ چاہتے بھی ہیں چاہتے بھی نہیں دوستی کی نئی مثال ہے یہ کیسے سلجھیں گے کاکل ...

مزید پڑھیے

آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی

آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی ہم نے تعریف سنی تھی ترے دیوانوں کی دیدہ ور سلسلۂ اشک سمجھتے ہیں جسے کہکشاں ہے مرے محبوب کے احسانوں کی تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اجالا ہے ابھی شمعیں روشن ہیں مرے غم کے شبستانوں کی معترض ہیں مری دیوانہ وشی پر وہ لوگ جن کو دامن کی خبر ہے نہ ...

مزید پڑھیے

تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغ

تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغ کہ یہ چراغ ہیں خون دل و جگر کے چراغ ان آنسوؤں کو ستارے سلام کرتے ہیں بجھا سکو تو بجھا دو یہ چشم تر کے چراغ ہوا نہ ایسا چراغاں کبھی سر مقتل ہتھیلیوں پہ ہیں روشن بریدہ سر کے چراغ انہیں پہ چلنے سے منزل ملے گی ہم سفرو یہ نقش پا ہیں کسی کے کہ رہ ...

مزید پڑھیے

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ پتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈ زندگی میں اب وہ رنگ و بو نہ ڈھونڈ گل ادا گل پیرہن گل رو نہ ڈھونڈ اپنے ہونٹوں پر تبسم کر تلاش وقت کے رخسار پر آنسو نہ ڈھونڈ مستیوں میں رقص طاؤس اب کہاں شوخیوں میں وہ رم آہو نہ ڈھونڈ موجزن ہے دل میں جو طوفاں وہ ...

مزید پڑھیے

رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں

رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں ہوئی جب بے خودی طاری اسے منزل سمجھتے ہیں وفوق شوق کو ہے تنگ اقصائے دو عالم بھی فضائے لا مکاں پرواز کے قابل سمجھتے ہیں بقا ظاہر میں ذرات عدم کا اک ہیولیٰ ہے حقیقت میں فنا کو زیست کا حاصل سمجھتے زمانہ کا اثر ہوتا نہیں ہے حال پر اپنے کہ ...

مزید پڑھیے

خواب سے نکلی ہوئی نظم

اپنی جوانی میں بکھری ہوئی قوس قزح غرور میں پھولے ہوئے پھول اہرام مصر یا ایک خوب صورت محبوبہ کے اندر ایک حاکم پنپتا ہے ہر دور میں ایک چالاک شخص ضرور ہونا چاہئے جو لوگوں کو بد صورتی سے ڈرا کر محظوظ ہوتا رہے اب میں خوبصورتی کے لیے کیا لکھوں یہی کہ تخلیقی میلان سے ذرا پہلے اور بہت ...

مزید پڑھیے

دل درد آشنا کا مدعا کیا

دل درد آشنا کا مدعا کیا کسی بیداد کی کیجے دوا کیا ہوا انساں ہی جب انساں کا دشمن شکایت پھر کسی کی کیا گلہ کیا بہار تازہ آئی گلستاں میں کھلائے جانے گل باد صبا کیا وہ کہتے ہیں نشیمن ترک کیجے چلی گلشن میں یہ تازہ ہوا کیا اٹھی انسانیت یکسر یہاں سے یکایک خوئے انساں کو ہوا کیا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4029 سے 5858