اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
تو نے اے انقلاب کیا خلق کیا الٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیا جب کہتا تھا بندوں کا خدا خالق ہے اب کہتا ہے بندوں نے خدا خلق کیا
تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں میں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیں سچ ہے ترا کہنا تو مجھے کچھ نہیں خوف سچ ہے مرا کہنا تو تری خیر نہیں
کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے کچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہے اے بندۂ نا صبور تیرا ہر کام کچھ دیر میں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے
ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے اک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے اصنام دبی زباں سے یہ کہتے ہیں وہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے
جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہے واجب ہی میں ایک صورت امکاں ہے محشر ہو کہ قبر زندگی ہو کہ ہو موت جو یاں ہے وہاں ہے جو وہاں ہے یاں ہے
اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی اللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہی تسکین کی آخر کوئی صورت بھی تو ہو رویت ممکن نہیں تو رویا ہی سہی
کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے مانند حباب ابھر کے اتر آتا ہے کرتے ہیں ذرا سی بات پر فکر خسیس تنکا تھوڑی سی ہوا سے اڑ جاتا ہے
سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا کس کی مردود کی ہوئی ہے دنیا شاکی دنیا کا ہے ہر اک دنیا میں آخر کس کے لیے بنی ہے دنیا
ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں ہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیں ہے مقصد دم کہ دم نہ لیں ہم دم بھر جب تک دم ہے تلاش ہمدم میں رہیں