کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے امجد حیدر آبادی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے مانند حباب ابھر کے اتر آتا ہے کرتے ہیں ذرا سی بات پر فکر خسیس تنکا تھوڑی سی ہوا سے اڑ جاتا ہے