اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے آرزو لکھنوی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے