ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے

ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے
اک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے
اصنام دبی زباں سے یہ کہتے ہیں
وہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے