شاعری

اللہ کے نام سے

خدا رام ہے اور خدا ایشور وہ بھگوان ہے کل جہاں اس کا گھر اسی کا کرم اور اسی کی دیا یہ مکتب یہ تعلیم کا حوصلہ کتابوں میں وہ کارخانوں میں وہ زمیں ہی نہیں آسمانوں میں وہ اسی کی نوازش کا اظہار ہیں جو سر سبز و شاداب اشجار ہیں اسی کی عنایت چمن رنگ و بو محبت مسرت خوشی جستجو برائی سے ہم کو ...

مزید پڑھیے

پھولوں کی غزل

خوش نما ہے حیات پھولوں کی دیکھنا کائنات پھولوں کی جوہی چمپا چنبیلی اور گلاب نام بچوں کے ذات پھولوں کی تتلیوں کی طرح سجل نازک ان کی ہر بات بات پھولوں کی یہ نہیں جانتے کہ غم کیا ہے دن ہے پھولوں کا رات پھولوں کی وہ جو پڑھتے ہیں اور لکھتے ہیں اور کرتے ہیں بات پھولوں کی لہلہاتا چمن ...

مزید پڑھیے

ترنگا

لہرا رہا ہے دیکھو آکاش پر ترنگا امن و اماں کا پیکر جھنڈا وہ رنگ برنگا ہر ایک فن کی عظمت تہذیب بے مثالی ہے اس سے آشکارہ کوئی نہیں سوالی امن و اماں کی رنگت ویروں کے خوں کی لالی اس میں جھلک رہی ہے مزدور کی بحالی لہرا رہا ہے دیکھو آکاش پر ترنگا امن و اماں کا پیکر جھنڈا وہ رنگ ...

مزید پڑھیے

لمحۂ آمد

درد کے تعاقب میں فصل دل یوں رہتی ہے ان گنت جزیروں سے کشتیاں سی آتی ہیں کاغذ و قلم کے بیچ راستہ بناتی ہیں لفظ اور معنی میں ڈوب ڈوب جاتی ہیں درد دل کی فصلیں تب خوب لہلہاتی ہیں پھول سے کھلاتی ہیں گنگناتی جاتی ہیں مسکراتی جاتی ہیں وسعتوں کا جنگل سا پھیل پھیل جاتا ہے

مزید پڑھیے

لمحہ

ابھی اک شاخ سے ہنستے ہوئے اک پھول کی خوشبو جو ٹوٹی ہے اسی نے موسموں کو راگ کی تعلیم بخشی ہے اسی نے درد کو تاثیر میں بہنا سکھایا ہے مگر اک خواب جو ریشم کے دھاگوں میں کہیں الجھا ہوا سا ہے اسے میں جاگتے سوتے سروں میں گنگناتا ہوں اسے میں روشنی کے آئنے میں دیکھ لیتا ہوں مسلسل رات کے ...

مزید پڑھیے

ورثہ

ہماری داستانوں میں تمہاری داستانیں مل ہی جاتی ہیں ہمیں سب یاد ہے وہ ایک اک منظر جسے ان موسموں نے راگنی ہونا سکھایا تھا جنہیں ہم دور کی وادی میں پیچھے چھوڑ آئے تھے مگر اک آرزو بن کر وہی وادی وہی منظر تعاقب میں ہے خوابوں میں مہکتے راز افشاں ہیں پگھلتی برف کے اندر چنابیں ٹوٹنے کی ...

مزید پڑھیے

نیا سال

نیا‌‌ سال آیا پہیلی نئی ساتھ لایا گئے سال ہی کی طرح حل کروں یا نئی کوئی ترکیب ڈھونڈوں دسمبر کرے گا بیاں یہ گرہ کچھ کھلی کہ نہیں جب مرا دھیان ہوگا نئی اک پہیلی کی جانب

مزید پڑھیے

جنم دن

اک تاریخ جب اس دنیا کی فضا میں میں نے پہلی سانس بھری تھی اور آج ہی مجھ کو موصول ہوئے ہیں کتنی دعاؤں کے چیک اب سارا برس آرام رہے گا اور خاص الخاص اک کام رہے گا قسمت کے بینک میں جا کر سارے چیک کیش کرا کر رفتہ رفتہ خرچ کروں گا جب یہ دولت کم ہو جائے تب میں تنہا بیٹھ کے یہ دعائیں کروں ...

مزید پڑھیے

کاش

مجھ میں اے یار مرے کوئی کمالات نہ دیکھ خواب وہ ہوں جو کبھی بھی نہ حقیقت میں ڈھلا کوئی ساحل نہیں منزل نہ کوئی معجزہ ہوں اہل بازار کا چاہا ہوا ساماں بھی کہاں جو لبوں پر ہو زمانے کے نہ وہ نغمہ ہوں میرے کہنے سے نہ رت کوئی سہانی آئے میری چاہت سے نہ کلیوں پہ جوانی چھائے میرے جذبوں میں ...

مزید پڑھیے

وعدہ

رکھ تو لی بات تری اب نہ کبھی بولوں گا اب تصور میں کبھی تجھ کو نہ میں گھولوں گا اب نہ پھر پاؤں کبھی تیری طرف جائیں گے اب نہ ہاتھوں کے ارادے تجھے چھو پائیں گے رکھ تو لی بات تری اب نہ کبھی بولوں گا اب نہ ہونٹوں پہ بلا وجہ ہنسی چھائے گی اب نہ چہرے پہ کوئی شکل اتر پائے گی اب نہ زلفوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 77 سے 960