شاعری

چاند چھپنے لگا

چلو گھر چلیں چاند چھپنے لگا ہے سمندر بھی لگتا ہے سونے چلا ہے ہواؤں کی رفتار تھم سی گئی ہے نہ آئے گا کوئی سحر ہو چلی ہے نہ اب پاس میں کوئی پتھر بچا ہے نہ اب بازوؤں میں اثر رہ گیا ہے سڑک کی سبھی روشنی بجھ گئی ہے اندھیرا ہٹا راہ دکھنے لگی ہے نہ آہٹ ہے کوئی نہ کوئی بھرم ہے تھکی آرزو اور ...

مزید پڑھیے

جیسے

آج قاصد کو ادھر سے جو گزرتے دکھا مجھ کو ایسا لگا جیسے کہ ترا خط آیا تو نہیں پھر بھی چلا کرتی ہے دنیا میری اب تو محسوس نہیں ہوتی کبھی تیری کمی جانے دہلیز پہ اترا تھا وہ کس کا سایہ یوں لگا جیسے کہ اپنا کوئی واپس آیا تو مجھے یاد نہ آئے کبھی ایسا نہ ہوا پھر بھی رو رو کے گزر ہوتا ہو یہ ...

مزید پڑھیے

تو

کیا کہوں تجھ کو میں کیا کہہ کے پکاروں تجھ کو جیسے قاصد کوئی اک پیار میں ڈوبے خط کو بند دروازے کے پلوں میں پھنسا دیتا ہے اور خط دیکھ کے اک عشق میں پابند نظر دل معشوق کی ہر بات سمجھ جاتی ہے تو کھنچی آتی ہے یوں ہولے سے میری جانب خانۂ دل میں اسی پیار بھرے خط کی طرح حسرت چشم مری تجھ میں ...

مزید پڑھیے

کون

کون ہے جو مجھے آج چھو کر گیا کس کا میں باتوں ہی باتوں میں ہو گیا میری انگڑائیوں کا سبب کون ہے ذہن کس خواب میں آج کل کھو گیا کون ہے جو مجھے آج چھو کر گیا دھیرے سے چپکے سے بات کس کی چلی کس کے لب پہ اچانک نظر ٹک گئی ٹھہرے ٹھہرے قدم کیوں لگے بھاگنے کس کی باتوں پہ ہم دل لگے تھامنے کون ...

مزید پڑھیے

آدمی ہوں

لوگ کیوں ڈھونڈیں خدائی مجھ میں آدمی ہوں میں فرشتہ تو نہیں میں مچلتا ہوں گھروندوں کے لیے اونچی نیچی سی پسندوں کے لیے جانا انجانا سفر ہے اپنا چند خوابوں کا نگر ہے اپنا کوئی ڈھونڈے کیوں برائی مجھ میں آدمی ہوں میں فرشتہ تو نہیں پیروں میں پڑتیں کبھی زنجیریں پھر کبھی طوفاں بنیں ...

مزید پڑھیے

آتی جاتی لہریں

چپکے چپکے خزاں آ گئی باغ میں پیڑ پودوں پہ زردی چھڑکنے لگی سارے پتوں کو اک روگ سا لگ گیا دیکھتے دیکھتے ساری شاخیں برہنہ ہوئیں پیڑ دم سادھے چپ چاپ تھے خامشی سبز موسم کو اچھی لگی اور پھر دیکھتے دیکھتے پیڑ پودوں پہ پتے چھڑکنے لگا سبز موسم کے احسان کے بوجھ سے سارے گلشن کا سر جھک ...

مزید پڑھیے

خوش نما تتلی

لوگ حیراں ہیں کیوں چھوڑ کے شاخ گل کو آ کے بیٹھی ہے ہتھیلی پہ مری ایک خوش نما تتلی کوئی کیا جانے کہ یہ چوستی ہے میری قسمت کے کسیلے رس کو

مزید پڑھیے

ملال

تمام ذی روح گرمیوں سے تڑپ رہے تھے برس رہا تھا عجیب تشنہ لبی کا موسم کسی نے رکھا قریب میرے گلاس لبریز پانیوں سے کہ تو بجھا لے پیاس اپنی بجھانے پیاس اک نحیف کوا قریب آیا گلاس پر چونچ اس نے ماری تھا کانچ نازک بکھر گیا ٹوٹ کر نہ میں پی سکا نہ وہ پی سکا ہے جس کا آج تک ملال دل کو

مزید پڑھیے

کرب تنہائی

میں ہوں ویرانے میں ایک شجر تنہا مجھ پہ چھایا رہتا ہے ایک مہیب سناٹا جانے کب تک ان سناٹوں کا ساتھ رہے گا دل میں جاگے ہے بس یہی ارماں کاش چڑیا کوئی آئے مجھ پہ بیٹھے پھدکے گائے خوب چہچہائے جوڑ کے تنکے باہوں پر مری خوب منائے رین بسیرا جنم دے بھولے بھالے بچوں کو شاخوں سے پھل توڑے کھائے ...

مزید پڑھیے

آغاز

سکوں بھری کسی خاموش جھیل کے کنارے املتاس سی میں موسم بہار میں محبت کے جزیرے سے آتی پر اثر ہواؤں کے جھونکوں کی گفتگو سنتی ہوں کسی اجنبی سی زبان میں کچھ ان کہے سے لفظ ہیں کسی جانے پہچانے سے کردار کی کچھ نئی نئی سی آواز ہے کسی سنے سنے سے فسانے کے کچھ ان دیکھے انداز ہیں میں دیکھتی ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 78 سے 960