شاعری

کھنڈر آسیب اور پھول

یہ بھی طلسم ہوشربا ہے زندہ چلتے پھرتے ہنستے روتے نفرت اور محبت کرتے انساں صرف ہیولے اور دھویں کے مرغولے ہیں ہم سب اپنی اپنی لاشیں اپنے توہم کے کاندھوں پر لادے سست قدم واماندہ خاک بہ سر دامان دریدہ زخمی پیروں سے کانٹوں انگاروں پر چلتے رہتے ہیں ہم سب ایک بڑے قبرستاں کے آوارہ ...

مزید پڑھیے

آگہی کی دعا

اے خدا اے خدا میں ہوں مصروف تسبیح و حمد و ثنا گو بظاہر عبادت کی عادت نہیں ہے رند مشرب ہوں زہد و ریاضت سے رغبت نہیں ہے مگر جب بھی چلتا ہے میرا قلم جب بھی کھلتی ہے میری زباں کچھ کہوں کچھ لکھوں تیری تخلیق کا زمزمہ مدعا منتہا حرف جڑ کر بنیں لفظ تو کرتے ہیں تیری حمد و ثنا یا خدا یا ...

مزید پڑھیے

ماورا

راہ چلتے ہوئے اک موڑ پہ دور از امید آنکھ جھپکی تو مرے سامنے وہ شوخ پری پیکر تھا میرے پہلو سے وہ گزرا مگر اس طرح کہ چہرے پہ تھا ہاتھ ایک میٹھی سی خلش چھوڑ گئی دل میں یہ جاں سوز ادا ماورائی سایہ جلوہ جو گریزاں ہے مری نظروں سے میری بانہوں کی حرارت میں کبھی شمع کے مانند پگھل جاتا ...

مزید پڑھیے

پرومیتھیس

اگر میں کہتا ہوں جینا ہے قید تنہائی تو زندگانی کی قیمت پہ حرف کیوں آئے اگر نہ آیا مجھے سازگار وصل حبیب تو اعتماد محبت پہ حرف کیوں آئے اگر ملے مجھے ورثے میں کچھ شکستہ کھنڈر تو کائنات کی وسعت پہ حرف کیوں آئے اگر دکھائی دئے مجھ کو آدمی آسیب تو عصر نو کی بصیرت پہ حرف کیوں آئے اگر نہ ...

مزید پڑھیے

شب و روز تماشہ

ذہن جب تک ہے خیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے ہونٹ جب تک ہیں سوالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے بحث کرتے رہو لکھتے رہو نظمیں غزلیں ذہن پر صدیوں سے طاری ہے جو مجلس کی فضا اس خنک آنچ سے کیا پگھلے گی سوچ لینے ہی سے حالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھوں سے وابستہ خواب تیز کرنوں ...

مزید پڑھیے

رہگزر

یہ رہ گزر رہ گزار خوباں ہے جس کا ہر موڑ کہکشاں ہے سجل شگفتہ حسیں دل آویز خوبصورت بہار ساماں ادھر سے گزر گیا زمانہ کہ جیسے گزرے رمیدہ آہو جلو میں صبحوں کی مسکراہٹ لبوں پہ روشن سی گنگناہٹ جبیں پہ تقدیس فن کا قشقہ نظر نظر میں سحر کے خاکے لچکتی باہیں مہکتے گیسو صبیح ابرو گداز ...

مزید پڑھیے

جنگ کا مطلب

دیکھو تو اس موڑ کے آگے چھوٹا سا اسکول ہمارا لمبی سی دیوار کے اندر رنگ رنگیلا پیارا پیارا کتنے ہی تو پھول کھلے ہیں پودے بھی کیا خوب لگے ہیں گھنٹی کے بجنے کی صدائیں حمد خدا پھر رب سے دعائیں ہائے یکایک ایک دھماکا ہم سب کا دل دہلا جاتا کالے کالے بم کے گولے موت تباہی جنگ کے شعلے زن زن ...

مزید پڑھیے

بے معنیٰ نظم

گرا پانی کے نل سے ایک انڈا تو خربوزہ اٹھا پھر لے کے ڈنڈا فلک پر ریل تیزی سے چلی ہے ہوا دیکھو تو پانی سے جلی ہے ندی میں تیرتا خرگوش دیکھا تو مچھلی نے پروں کو خوب سینکھا ملی چوہے کے بل سے ایک بلی شری کاگا بنے ہیں شیخ چلی کبوتر سے ہوئی کچوے کی شادی تو بھالو نے ٹماٹر کو دعا دی جلیبی ...

مزید پڑھیے

بے معنی

سڑک پر ریل تیزی سے چلی ہے ہوا دیکھو تو پانی سے جلی ہے کہا مرغے نے یہ گیدڑ سے رو کر مری مرغی ابھی اٹھی ہے سو کر ندی میں تیرتا خرگوش دیکھا تو مچھلی نے پروں کو خوب سینکا کبوتر سے ہوئی کچھوے کی شادی تو بھالو نے ٹماٹر کو دعا دی مچایا شور کچھ سانپوں نے ایسا چلایا بکروں نے جو کھوٹا ...

مزید پڑھیے

عجیب خواہشیں

مناتا موج گر چوہا میں ہوتا سحر سے شام تک پھرتا ہی رہتا لگے جب بھوک میں میٹھا چراتا مزے سے بل میں بیٹھا اس کو کھاتا محلے کے سبھی باورچی خانے بلائیں گے مجھے دعوت اڑانے مزے سے دعوتیں ہر گھر میں کھاتا دہی مسکہ ملائی دودھ اڑاتا اگر بلی چلی آئے جھپٹ کر تو گھس جاؤں گا میں بل دبک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 76 سے 960