یہ کائنات
یہ کائنات خدا کا آئینہ ہے اور موجودات اس کا عکس عکس موجود کا غماز کہ وہی آئینہ بھی وہی عکس بھی وہ خود کو خود میں دیکھتا ہے اور ہر جگہ پاتا ہے وہ اپنی ذات میں اپنے آپ میں مسرور و مطمئن ہے
یہ کائنات خدا کا آئینہ ہے اور موجودات اس کا عکس عکس موجود کا غماز کہ وہی آئینہ بھی وہی عکس بھی وہ خود کو خود میں دیکھتا ہے اور ہر جگہ پاتا ہے وہ اپنی ذات میں اپنے آپ میں مسرور و مطمئن ہے
سورج کی تپش پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے فضا میں اڑا دیتی ماحول کی برودت جب شدت اختیار کر لیتی ہے تو زمین برف کے بوجھ تلے کسمسانے لگتی ہے میں تم سے یہ نہیں کہوں گا تم نے ایسا کیوں کیا تم ایسا کیوں کرتے ہو تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے زندگی کے حقائق سے فرار کبھی سکون نہیں دے ...
کائنات ایک عظیم صداقت ہے سراپا مگر تہہ در تہہ صداقت کائنات کی یہ صداقتیں آدمی پر بتدریج ظاہر ہوتی ہیں کہ آدمی صداقت کاملہ کے ادراک کا بیک وقت متحمل نہیں ایک صداقت کے بعد دوسری کا عرفان پہلی کو باطل نہیں کرتا دن کا اجالا رات کے اندھیرے کا منکر نہیں ہے پت جھڑ کی بے رونقی آنے والے ...
رشتے آدمی کی کمزوری ہیں یا کمزوری کے احساس کا نتیجہ یہ ناگ پھنی کی وہ باڑھ ہیں جسے فصل کی حفاظت کے لئے کھیت کی منڈیروں پر لگا دیا جاتا ہے اور ناگ پھنی کا قرب ضرر سے خالی نہیں ہے
ہر باطن جس کا ظاہر مخالف ہو باطل ہے اور وہ ظاہر جو باطن سے ہم آہنگ نہ ہو ریا ہے تم جو اپنے ظاہر کو باطن سے نہیں ملا سکے کار زار حیات میں کیا کر سکتے ہو بجز دکھاوا
درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور پھل اپنے درخت سے نیکی بدی ایک معیار ہیں تمہاری شناخت کا کہ وہ تم سے ہیں اور تم ان سے آئینہ تو وہ ہی دکھائے گا جو اس کے مقابل ہوگا
پھل دار شاخیں جھکی ہوئی ہیں موتی والا صدف سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں ہے یہ سوچ میں کچھ نہیں ہوں سمندر کی حقیقت سے واقف قطرے کا اپنی ذات کا عرفان
کلہاڑی نے درخت سے دستہ حاصل کیا اور قوت پا لی اور پھر اسی دستے کی مدد سے درخت پر حملہ کر دیا درخت نے امربیل کو زندگی دی نمو بخشی اور امر بیل نے درخت کو کیا دیا استحصال سگریٹ اپنے وجود کو دھویں میں تبدیل کر رہا ہے اور میں رشتوں کے تعلق سے سوچ رہا ہوں
سکھ کا حصول اور دکھ سے نجات صرف دو ہی تو مسئلے نہیں ہیں زندگی کے سکھ اور دکھ کے بیچ بھی تو مسئلے ہیں زندگی کو جتنا سوچو گے اتنا الجھائے گی میں آج تک خود کو نہیں سمجھ سکا پھر زندگی دھوپ چھانو کا کھیل ہے جس پر سورج کا اختیار ہے اپنا نہیں
اندیشہ کھو جانے کا امید کچھ پانے کی حزن و مسرت ہمارے اپنے اختیار کے اندیشہ دیمک ہے جو مسرت کے درختوں کی جڑوں کو چاٹتی رہتی ہے تم بے اندیشہ کیوں نہیں ہو جاتے کہ پیدائش سے موت تک زندگی کے لمحوں کو تم ان کے مآل متعینہ سے ہٹ کر نہیں جی سکتے