شاعری

سنا یہی ہے

خموش رہنا، کبھی سر ہلا کے سن لینا ہوا میں چاند بنانا، بنا کے چن لینا عجیب دور تھا چاروں طرف اداسی تھی زمین اپنی ہی تنہائیوں کی پیاسی تھی کبھی شراب کبھی شاعری کبھی محفل پھر اس کے بعد دھڑکتا ہوا اکیلا دل خود اپنے گھر میں ہی گھر سے الگ تھلگ رہنا کتاب جاں کے لیے رات بھر غزل کہنا یہ ...

مزید پڑھیے

نجات

خاموش مہیب رات کا دل دھڑکتا ہے اندھیرے کے زبردست ہاتھ نے میری آنکھوں سے نیند گھسیٹ لی ہے اس وحشی سناٹے میں ہوا کی دوزخی لہروں پر تڑپتی ہوئی ایک فریاد مجھ تک پہنچتی نہ تھی حلق پر غیر مرئی ناخنوں کے دباؤ سے میں کسی اوک زبان میں گالیاں دیتا ہوں چند لمحوں کے بعد کسی غیر فطری غفلت کے ...

مزید پڑھیے

یہ خلف کا وعدہ ہے

اختر الزماں ناصر وقت جیسے رویا ہو دھوپ نرم لہجے میں جیسے آج گویا ہو دور کوئی مسجد میں بیچ عصر و مغرب کے جیسے کھویا کھویا ہو اختر الزماں ناصر میں تمہاری آنکھوں سے دیکھتا تھا دنیا کو میں تمہارے ہاتھوں سے زندگی کو چھوتا تھا میں تمہارے قدموں سے ناپتا تھا رستوں کو میں تمہاری سانسوں ...

مزید پڑھیے

بعد از خدا

چراغ ہے، کتاب ہے سوال ہے، جواب ہے کہ آسماں منڈیر ہے کہ یہ زمیں بھی ڈھیر ہے کسی کا کوئی نام ہے نہ زندگی مدام ہے مگر وہ ایک شخص ہے جو دھوپ کی کگار ہے جہاں کا اس پہ بار ہے چلے چلو کہ وقت ہے، عذاب کتنا سخت ہے مگر وہ کب زوال ہے، وہ موسموں کی شال ہے پہن رہی ہے شام بھی بدل رہی ہے رات بھی کہ ...

مزید پڑھیے

باطن

دور حاضر کے تم ایک شرمندہ انسان ہو میں جو چیخا تو میری انا ٹوٹ کر جنگلوں کی تپش بن گئی داستاں کی خلش بن گئی قہقہے بے صدا قہقہے مکڑیوں کی فضا میں اڑاتے رہے تیز مضبوط قوموں کے ناراض قصے سناتے رہے میں پریشان نیندوں کے بادل ہٹا کر بجھی رات کے سادہ پردے اٹھا کر جو خیمے سے نکلا تو ...

مزید پڑھیے

دن کے اجالے کی کوئی حقیقت تو رات کا اندھیرا بھی وجود رکھتا ہے

دن کے اجالے کی کوئی حقیقت تو رات کا اندھیرا بھی وجود رکھتا ہے ہم ہوا کو چھو نہیں سکتے ہوا ہمیں چھوتی ہے میں اگر تم سے نفرت کرتا ہوں تو میرے دل میں تمہارے لئے محبت بھی ہے محبت اور نفرت دونوں ہی زندگی ہیں جس طرح رات اور دن آسائش اگر زندگی ہے تو بے مائیگی اور مصائب بھی جاگنا زندگی ہے ...

مزید پڑھیے

سمندر

سمندر جو زمین کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے ایک ہی ہے ہم نے اسے مختلف نام دے رکھے ہیں زمانہ بھی ایک ہی ہے وہ کہاں بدلتا ہے بدلتے تو ہم ہیں ماضی ہم جو بدل گئے مستقبل ہم جو بدلنے والے ہیں اور حال ہم جو ہیں وقت ایک غیر منقسم لمبی ڈور ہے ازل ابد کے درمیان ماضی حال مستقبل ہمارے دئے ہوئے نام ...

مزید پڑھیے

سمندر

سمندر حد نظر تک پھیلا سمندر زمیں کی ساری غلاظتیں پی کر بھی طاہر و پاک مطمئن و سرشار خدایا مجھے بھی سمندر کیوں نہ بنایا تو نے

مزید پڑھیے

تمہارا وجود

تمہارا وجود ایک خالی فریم ہے یہ تم پر منحصر ہے کہ اس میں کیسی تصویر فٹ کرتے ہو وہ تصویر تمہاری اپنی شخصیت کی ہوگی

مزید پڑھیے

کل جو گزر گیا

کل جو گزر گیا ایک خواب تھا خواب جو ٹوٹ گیا آئینے کی طرح اور ٹوٹے آئینے کی کرچیاں سمیٹنا ہاتھوں کو لہولہان کر دے گا کل آنے والا ابر کا ایک پارہ ہے جو تمہاری زمینوں پر برسے بغیر بھی گزر سکتا ہے وہ تمہاری موہوم امیدوں کا سایہ ہے اور سایہ کب کس کا ہو پایا ہے تم سائے کو پکڑنے کی کوشش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 562 سے 960