مرد درخت ہے
مرد درخت ہے عورت بیل بیل کے بقا کے لئے درخت کا وجود اتنا ہی ناگزیر ہے جتنے روشنی اور آب جو بیل درخت کے سہارے سے محروم رہتی ہے زمین پر پھیل کر چرندوں کی خوراک بن جاتی ہے
مرد درخت ہے عورت بیل بیل کے بقا کے لئے درخت کا وجود اتنا ہی ناگزیر ہے جتنے روشنی اور آب جو بیل درخت کے سہارے سے محروم رہتی ہے زمین پر پھیل کر چرندوں کی خوراک بن جاتی ہے
درختوں نے انسانوں کو سایہ پھول پھل اور آگ دی بے غرض افسوس انسانوں نے درختوں سے بے غرضی نہ سیکھی سانپ سے خود غرضی سیکھ لی جو خود اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے
دنیا میں کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا ہر شخص اپنی ذات سے محبت کرتا ہے درخت کی شاخیں روشنی کی طرف لپکتی ہیں تو جڑیں نمی کی ہم نے اپنے گرد خود غرضی کا جال بچھا رکھا ہے دوستی محبت سوارتھ کے ہی مختلف نام ہیں مجھے تم سے محبت ہے کہ وہ میری ضرورت ہے اور ہر آدمی اپنی ضرورت پوری کرتا ...
زندگی مکتب ہے ایک عظیم مکتب علم کے بغیر مکتب ایک گھروندا ہے اینٹ گارے کا
سفر پر نکلا مسافر پلٹ کر اپنے گھر کو آ جاتا ہے زمین دائرے میں گھوم کر پھر اسی مقام سے اپنے سفر کی ابتدا کرتی ہے وقت ایک تیز رفتار گھوڑا ہے جو حال کو ماضی میں تبدیل کرتا مستقبل کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے کمہار کا چاک گھوم رہا ہے اور کمہار کے مشاق ہاتھ مٹی سے مختلف پیکر تراش رہے ...
وہ حقیقت جو شریعت سے رد ہوتی ہو باطل ہے انتہائے علم دو صورتیں اختیار کرتی ہے اللہ کا حقیقی بندہ بنا دیتی ہے یا پھر ابلیس کا پیرو تمہارے پاس تو قرآن ہے گمرہی سے بچو اور صراط مستقیم پہ چل نکلو اسی میں نجات ہے
درخت کے سہارے بلندی سے ہمکنار ہونے والی بیل اپنی خصوصیت سے محروم نہیں ہو جاتی درخت میں اپنی شناخت مدغم نہیں کر دیتی تم اگر درخت نہیں بن سکتے تو بیل ہو جاؤ
ہماری خواہشات ہماری ضروریات کی پیداوار ہیں خواہشات کی تکمیل خوشی دیتی ہے اور عدم تکمیل رنج خوشی اور رنج کیا ہے ہمارے اپنے مزاج کی جمع تفریق کیا تم نے کبھی کسی کے لئے موت کی خواہش کی ہے موت میں ایک خوشی پوشیدہ ہے ایک سوارتھ نہت ہے تمہاری زندگی سوارتھ پہ قائم ہے تم جب بھی موت چاہو ...
کہیں بھی چھڑک دو یہ روٹی کے بیج غلاموں کی فصلیں اگاتے رہو یہ وہ فصل ہے جس کو پانی ہوا بھی نہیں چاہیے اک فقط بھوک کی تیز بارش کا چھڑکاؤ درکار ہے عزت نفس کی کھاد کو جس قدر اپنے پیروں سے مسلو گے کچلو گے اتنی ہی اچھی ملے گی خبر اور تو اور ان غلاموں کی نسلیں کتابوں کو اپنی درانتی بنا ...
اپنے پندار خودی سے منفعل ہوں مظہریؔ میں ظہور اختلال آب و گل ہوں مظہریؔ کہ محبت کا مریض مستقل ہوں مظہریؔ دوستی کیا دشمنی سے بھی محبت میں نے کی روشنی کیا تیرگی سے بھی محبت میں نے کی مسکرائی تیرگی مجھ کو محبت ہو گئی ہنس کے بولی دشمنی مجھ کو محبت ہو گئی مفلسی و بے نوائی سے محبت میں نے ...