شاعری

میرا وجود

پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں

مزید پڑھیے

دشمن

اس جیون کی راہ گزر میں کیسے عمر بتاؤں چپ سادھوں تو دل میں جیسے شعلہ بھڑکا جائے بھیڑ سے ہٹ کر بات کہوں تو دیوانہ کہلاؤں سچ پوچھو تو میرا دشمن ہے میرا احساس

مزید پڑھیے

میرا سفر

کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں

مزید پڑھیے

نروان

اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا

مزید پڑھیے

خوشبو کا بھید

تمام عمر جو پڑھتے رہے بدن کی کتاب جو کھو گئے ہیں ستارہ مثال حرفوں میں وہ لوگ روح کی خوشبو کا بھید پا نہ سکے

مزید پڑھیے

فاصلہ

یوں تو پہلے کتنی بار ملا تھا لیکن اک دن میں نے اس کی آنکھوں میں جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھ لیا تھا اور بہت حیران ہوا تھا آج ہمارے بیچ اک ایسی دیوار کھڑی ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے

مزید پڑھیے

گل لاجورد

میں سوچتا رہا لیکن نہ کوئی بھید کھلا ترے وجود کے سائے میں آگ سی کیوں ہے یہ کیسا رنگ ہے مٹی میں جذب ہو کر بھی سیاہ رات کے آنچل میں جگمگاتا ہے کہ جیسے چاند سمندر میں ڈوب جاتا ہے

مزید پڑھیے

حیرانی

حیرانی ہے وہ لوگ بھی تبدیلی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہیں جو کچھ کھونے کو تیار نہیں

مزید پڑھیے

رات ہوئی تو

رات ہوئی تو خواہش کے نیزے اگ آئے رشتوں کی دیواریں ٹوٹیں سایہ سائے میں ڈوب گیا

مزید پڑھیے
صفحہ 527 سے 960