میرا وجود
پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں
پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں
اس جیون کی راہ گزر میں کیسے عمر بتاؤں چپ سادھوں تو دل میں جیسے شعلہ بھڑکا جائے بھیڑ سے ہٹ کر بات کہوں تو دیوانہ کہلاؤں سچ پوچھو تو میرا دشمن ہے میرا احساس
کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں
اور جب خود سے بچھڑنے کی گھڑی آئے گی ایسا ہوگا کہ ہر اک نقش بدل جائے گا پھر لہو میں کوئی طوفان نہیں اٹھے گا درد رتیلی زمینوں میں اتر جائے گا
اس نے ان کی طرف آخری بار دیکھا اور چل پڑا اب اس کے لئے احساس کے سارے منظر نئے تھے گیان کا کرب تھا
تمام عمر جو پڑھتے رہے بدن کی کتاب جو کھو گئے ہیں ستارہ مثال حرفوں میں وہ لوگ روح کی خوشبو کا بھید پا نہ سکے
یوں تو پہلے کتنی بار ملا تھا لیکن اک دن میں نے اس کی آنکھوں میں جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھ لیا تھا اور بہت حیران ہوا تھا آج ہمارے بیچ اک ایسی دیوار کھڑی ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے
میں سوچتا رہا لیکن نہ کوئی بھید کھلا ترے وجود کے سائے میں آگ سی کیوں ہے یہ کیسا رنگ ہے مٹی میں جذب ہو کر بھی سیاہ رات کے آنچل میں جگمگاتا ہے کہ جیسے چاند سمندر میں ڈوب جاتا ہے
حیرانی ہے وہ لوگ بھی تبدیلی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہیں جو کچھ کھونے کو تیار نہیں
رات ہوئی تو خواہش کے نیزے اگ آئے رشتوں کی دیواریں ٹوٹیں سایہ سائے میں ڈوب گیا