قید
کل تم نے اپنے خوابوں اور خیالوں کو تصویروں میں قید کیا تھا آج تمہیں ان تصویروں نے قید کیا ہے
کل تم نے اپنے خوابوں اور خیالوں کو تصویروں میں قید کیا تھا آج تمہیں ان تصویروں نے قید کیا ہے
میں اپنے آپ سے اکثر سوال کرتا ہوں یہ کیا طلسم ہے کیسا عجب تماشا ہے کہ بار بار سرابوں کی سمت جاتا ہوں وہ کون ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے میں ظلمتوں کے بیاباں سے لوٹ آتا ہوں
مدتوں بعد اسے دیکھ کے حیران ہوئے شکل بھی یاد نہ تھی نام تک بھول گئے اس کی آواز سے لیکن اسے پہچان گئے
چاہت کا پردہ رکھنا اور نفرت ظاہر کر دینا ایک ہی انداز کسی دن تم کو تنہا کر جائے گا
اگر میں اپنی خواہشوں کو بے لباس کر دوں تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے میں یہ جانتا ہوں کہ ان کے دل کا زہر سیہ پرچھائیاں بن کر ابھر آتا ہے جسے دیکھنا ان کے بس میں نہیں وہ اپنی آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں
دل کی تپش سینے کی خلش جوش جگر ہوش نظر حسن و عشق مال و رزق لبوں پہ جب بھی ان کا ذکر آیا اے تشنگی نام تیرا پھر ان کے ساتھ ضرور آیا
دولت لالچ ہوس جھوٹ فریب نفرت یہ اب عیب نہیں انسانی فطرت میں گھلے ملے رنگ ہیں رونق ان کی ہے لبھاتی دیکھنے والے کو چونکاتی حیا ان پر اب ہمیں بہت کم ہے آتی سفر حیات کا مگر ایک ہی جگہ پہنچائے گا سب کو مٹی کے تن کو بچا کے رکھے گا کب تک
عمر کی ڈھلان پر تھک ہار کر بیٹھی ہے زندگی حساب کرتی ہوئی آخر میں اندر باہر بس ایک صفر ہی بچا رہ گیا
چھپک کی آواز کے ساتھ ذہن کے پانیوں میں گرتا ہے لفظوں کا پتھر بنتے بگڑتے احساسوں کے گھیرے مٹ جائیں گے بنا کوئی نشان چھوڑے مگر یہ زہر آلودہ پتھر پڑے رہیں گے یوں ہی ذہن کی تلہٹیوں میں رینگتے اپنی ہی طرح زہر آلودہ
رات تک خیالوں میں یادوں کا قافلہ کبھی جگاتا رہا کبھی تھپکی دے کر سلاتا رہا آخر دھڑکنوں کا ساز خوابیدہ آغوش میں ڈوبتا چلا گیا