گل لاجورد خلیل تنویر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں میں سوچتا رہا لیکن نہ کوئی بھید کھلا ترے وجود کے سائے میں آگ سی کیوں ہے یہ کیسا رنگ ہے مٹی میں جذب ہو کر بھی سیاہ رات کے آنچل میں جگمگاتا ہے کہ جیسے چاند سمندر میں ڈوب جاتا ہے