شاعری

ڈر

بات ہماری غور سے سننا سن کر جگ سے کہہ دینا اس دھرتی سے امبر تک جھرنے جھیل سے ساگر تک میدانوں کے دامن سے اونچے پربت کے سر تک بھوت ہے کیا جنات ہے کیا ظالم کالی رات ہے کیا ہم ہیں آدم کی اولاد شیطاں کی اوقات ہے کیا بستی بستی جنگل ہے اور جنگل میں جنگل ہے خطروں سے گھبرانا کیا جیون خود اک ...

مزید پڑھیے

لکھنا جو چاہتا تھا

لکھنا جو چاہتا تھا وہ لکھا نہیں گیا نیندوں میں خواب مٹ گئے الفاظ کھو گئے اک خاموشی کا پیڑ مرے دل میں بو گئے بارش میں بد حواسی کے سارے نقوش حرفوں کے دھندلا کے بہہ گئے آنسو نے جو بھی دیکھا تھا اس کو مٹا دیا دل نے ہوس کی آگ کو ساری جلا دیا کوئی نہ رنگ و روپ دل درد کے قریب آشا بھی مٹ گئی ...

مزید پڑھیے

شاعری مت کرو

کانٹوں کے تاج چنو یا جب سچ کی راہ چلو لفظوں کے پیچ و تاب میں الو نہ بنو شاعری مت کرو! موٹے جھوٹے یجمانوں کی جھڑکیاں ہوں یا کاہل ریاکار افسروں کا پھٹکاریں یا پھر دبلی پتلی دق زدہ بیویوں کے طعنے ہوں یا طوطا چشم عیار رت بدلی محبوباؤں کی جھوٹی مسکراہٹیں خاموش رہو ہر شے کو قدرت کا ...

مزید پڑھیے

مجھے ابھی بہت دور جانا ہے

کیا پیروں کی تھکن اس سفر کو روک سکتی ہے کیا راستے کے روڑے میرے ارادے کو توڑ سکتے ہیں کیا میں یہاں سے واپس لوٹ جاؤں گا کیا میں اور آگے چل نہیں پاؤں گا نہیں نہیں شاید مجھے جانا ہے بہت دور گو ہوں میں تھکن سے چور اور بے زار ہر منظر سے جو بار بار لوٹ کر نظر کی اکتاہٹ بن جاتا ہے وہی ...

مزید پڑھیے

نشہ باقی ہے

کروں گا فتح کوئی شام تو میں اتروں گا الجھتی سانس کے کیکر سے اور خوابوں سے رفت و بود کے اس پار ابد کے حسن حریری کے سفید سے پھول اپنی پلکوں پہ چن سکوں گا میں میں بن سکوں گا خود اپنا لباس خود اپنا تار نفس نہ سن سکوں گا کوئی لفظ کوئی نظم اور کوئی آواز سکوت ذات میں لمحوں کی چاپ تک نہ آئے ...

مزید پڑھیے

جلا وطن شہزاد گان کا جشن

قبر کی مٹی چرا کر بھاگنے والوں میں ہم افضل نہیں ہم کوئی قاتل نہیں بسمل نہیں منجمد خونیں چٹانوں پر دو زانو بیٹھ کر گھومتی سوئی کے رستے کی صلیبوں سے ٹپکتے قطرہ قطرہ سرخ رو سیال کو انگلیوں پر گن رہے ہیں چن رہے ہیں منظر نیلوفری کی جھیل میں گرتا ہوا اک آسمان نور کا ذخار شور ہم کہ اپنی ...

مزید پڑھیے

غزال شب کے ساتھ

میں یہاں نہیں تھا میں وہاں نہیں تھا درد بھرے آسمان میں چیخ بن کے ابھر رہا تھا تنگ گھاٹیوں میں گونج بن رہا تھا سمندروں پہ ریزہ ریزہ گر رہا تھا میں یہاں نہیں تھا کالے جنگلوں کے گھور اندھیرے میں تھا رفتہ رفتہ سب سیاہی مٹ گئی سارے جنگل کٹ گئے ہیولے گھٹتے گھٹتے غزال شب بنے اندھیرے چھٹ ...

مزید پڑھیے

یہ رات

یہ رات ہے یا حیات ہے پل صراط ہے اندھیرے میں لمحوں کی تیز دھار پر چلے ہوئے ہلکی آنکھ ملتے ہوئے لہولہان قدم لیکن کٹ کر گرتے ہیں نہیں کرتے بھی نہیں زخمی پیر لیے ابھی اور کتنی دور چلنا ہے معلوم نہیں اس راستے کی سرحد ہمیشہ نزدیک دکھائی دیتی ہے لیکن نزدیک پہنچتے ہی معدوم ہو جاتی ہے اور ...

مزید پڑھیے

تشنگی

زندگی تشنگی کا سفر ہے جس کے دامن میں کروڑوں مہ و سال کے نقش خوابیدہ ہیں وہ پیاس کی آگ تھی جس کی خاطر یہ انساں گھنے جنگلوں میں خلاؤں کی نیلاہٹوں میں گہرے سمندر کی پہنائیوں میں بھٹکتا رہا ہے وہ جسم اور روح کی پیاس ہے جو اب تک خلاؤں کا روپ دھارے پتھروں کے سینے میں درد بن کر کاغذی ...

مزید پڑھیے

ماضی ایک عذاب

اس نے شاید ٹھیک کہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جاؤ گے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 526 سے 960