میرا سفر خلیل تنویر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیں کتنے سورج ڈوب گئے کالی صدیوں کا زہر میرے سفر میں کتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقش میرے سفر میں میں اس سفر میں وقت کے ظالم رتھ سے کتنی بار گرا ہوں ٹوٹ گیا ہوں لیکن پھر بھی زندہ ہوں