میرا وجود خلیل تنویر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں پھیلوں تو ساگر بن جاؤں اور سمٹوں تو بوند چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں موت جہاں گھبرائے اور گروں تو خود ہی اپنی نظروں سے گر جاؤں