میرا وجود

پھیلوں تو ساگر بن جاؤں
اور سمٹوں تو بوند
چاہوں تو وہ سرحد چھو لوں
موت جہاں گھبرائے
اور گروں تو خود ہی
اپنی نظروں سے گر جاؤں