تم تو بچے نہیں
تم مرو تم تو بچے نہیں تم تو مسجد کے قیدی ہو قرآن پڑتے رہو سجدے کرتے رہو یہ جو پیکر تمہارا ہے اس میں لہو کی جگہ زہر ہے یہ جو مندر میں بچے ہمکتے ہیں بچے نہیں یہ کلیسا میں بے داغ بچے بھی بچے نہیں یہ جو مسلک کی کھیتی میں کھلتے ہیں بچے یہ بچے نہیں اپنے پومی کو دیکھ آؤں میں کال آئی ہے ...