شاعری

تم تو بچے نہیں

تم مرو تم تو بچے نہیں تم تو مسجد کے قیدی ہو قرآن پڑتے رہو سجدے کرتے رہو یہ جو پیکر تمہارا ہے اس میں لہو کی جگہ زہر ہے یہ جو مندر میں بچے ہمکتے ہیں بچے نہیں یہ کلیسا میں بے داغ بچے بھی بچے نہیں یہ جو مسلک کی کھیتی میں کھلتے ہیں بچے یہ بچے نہیں اپنے پومی کو دیکھ آؤں میں کال آئی ہے ...

مزید پڑھیے

کون سمجھے تجھے

شاعری تو پرندوں کی چونچوں پہ اگتی ہوئی نغمگی تو درختوں کی چھاؤں میں پلتی ہوئی سادگی تو بہاروں کے دامن میں بکھری ہوئی بے خودی تو سلگتے سوالوں کے باطن میں بہکی ہوئی آرزو تو ہے معصوم بچے کی آنکھوں میں حیرت کدہ کون سمجھے تجھے تیرگی روشنی زندگی بے بسی آدمی اور اک کامنی کون تیری زباں ...

مزید پڑھیے

چیک

آج تنخواہ کا چیک ملا لمحہ بھر میرے چہرے پہ خوشیوں کی کرنیں بکھرنے لگیں فون کی گھنٹیوں نے اندھیرے میں بدلا سماں میں اداسی کے صحرا میں پل بھر کو خیمے میں تنہا رہا یک دم اپنے پلٹنے پہ امید نے اک سہارا دیا ٹھیک ہے ٹھیک ہے قرض دینا ہے جن جن کا دے دوں گا میں شکر ہے مجھ سے شکوہ نہ کوئی کرے ...

مزید پڑھیے

اشک تارا کرو

وقت کی آستینوں میں پلتے ہوئے قہقہے جھاڑ دو اپنے لب گاڑ دو آئنوں میں بکھرتی ہوئی اپنی بے چہرگی کے ٹہلتے ہوئے سائے پر مسکراہٹ اجالو نئی صبح تعمیر کرنے کا چارہ کرو استخارہ کرو ساری افسردگی اور سراسیمگی سنسناتے ہوئے اپنی قامت سے گھٹ کر کئی منہدم دائروں میں بدل جائے گی یہ جو حالات ...

مزید پڑھیے

تماشے

سنا ہے اس نے تماشوں میں آنکھ کھولی تھی جو آج سب کو ہنساتا ہے مسخروں کی طرح قدیم دور کے کچھ نقش اس کے چہرے پر نئے زمانوں کے نوحے سنا رہے ہیں ہمیں جدید عہد میں کتنے تماشے ہو رہے ہیں ڈرون حملے دھماکے تباہی اور جنگیں ہم ان تماشوں کے ہر مسخرے کو جانتے ہیں تماشہ کرتے ہوئے قہقہے لگاتے ...

مزید پڑھیے

دسمبر اور یاد

دسمبر کی ہوا کے سنگ کچھ انجان سی یادیں بہت ویران سی یادیں مرے دل سے گزر کر چاند کی برفیلی سیڑھی پر اچانک بیٹھ کر سرگوشیوں میں رات کرتی ہیں مگر وہ جاتے جاتے میرے ذہن و دل کو پگھلا دیتی ہیں اکثر

مزید پڑھیے

سانجھ

ہمارے درد سانجھے ہیں کہ ہم اکھڑے ہوئے دو پیڑ گرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ اب ہمارے روگ سانجھے ہیں کہ ہم اندھے سمے میں اپنی روحیں ہی گنوا بیٹھے ہمارے جوگ سانجھے ہیں کہ ہم اپنے بدن میں کھوجتے ہیں خود کو ہر ساعت ہمارے درد سانجھے ہیں ہمارے روگ سانجھے ہیں ہمارا ہجر سانجھا ہے ہمارا وصل ...

مزید پڑھیے

یادیں

شب کا ایک بجا ہے اور میری آنکھوں میں جیسے پیاسا سورج آگ آیا ہے یادوں کا آدھی رات ہوئی ہے اور یادوں کی دھوپ ابھی تک ڈھلی نہیں ہے

مزید پڑھیے

ترے بن

ترے بن زندگی سے خوف آتا ہے ترے بن عمر کی صورت فقط اک موت جیسی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 366 سے 960