شاعری

کالی آگ

بہت ہی گہرا سناٹا ہے روح خلا میں خود کو جو میں ڈھونڈھنا چاہوں گم ہو جاتی ہوں میں اس میں کون ہے میری ذات کے اندر اک تو میں ہوں دوجا کون چھپا ہے مجھ میں

مزید پڑھیے

انجان

اپنی ذات میں رہنے والی اپنے لئے ہی انجانی میں کوئی عکس مکمل ہے جو میری روح خلا میں اکثر مجھ کو آوازیں دیتا ہے میرے جسم میں جیسے آگ بھری ہے

مزید پڑھیے

تخلیق

زمانے بھر کے دکھ لے کر محبت کو جنم میں نے دیا ہے

مزید پڑھیے

رات اور دن کیسے ہوتے ہیں

ٹیچر نے یہ پوچھا آ کر رات اور دن ہوتے ہیں کیوں کر اپنی سیٹ پہ پپو اٹھا اور فراٹے سے یوں بولا یہ سورج اک روشن شے ہے نارنگی سی گول زمیں ہے دھرتی اپنی کیل پہ چکر کھاتی رہتی ہے ہر دم سر چوبیس گھنٹوں میں اک پھیرا کرتی ہے یہ دھرتی پورا چکر کھانے میں جو حصہ سورج کی جانب ہے رہتا اس حصہ میں ...

مزید پڑھیے

کار عبث

ایک پژمردہ دن جب رات کی دہلیز پر اونگھنے لگتا ہے تب ہی تاریکی کا سیل رواں اسے بہا لے جاتا ہے نسوں سے ہمت کا ایک ایک قطرہ نچوڑ جاتا ہے اور زمیں پر موت کا سناٹا حیات کی ہلچل رہن رکھ لیتا ہے مگر قادر مطلق اے خدا واحد اس وقت بھی تو جاگ رہا ہوتا ہے میں لمحاتی موت کی چادر ہٹا کر سجدہ ریز ...

مزید پڑھیے

خالی گلک

آؤ عزہ سنو کہانی جب بچی تھیں تمہاری نانی ان کی ہتھیلی پر چھوٹا سا چمکتا سکہ رکھتے تھے انعام میں ابا جھٹ سے آ کر مٹھی بند کیا کرتی تھیں امی مٹی کی گلک بھیا لے کر آتے تھے چھن چھن کرتے بہت سے سکے گلک میں بھرتے جاتے تھے باجی اٹھا کر وزن بتا تیں دل خوشیوں سے پاگل ہوتا کیا کرنا ہے ان ...

مزید پڑھیے

مائے نی

کتنی اچھی تھی وہ زمیں مائے جہاں تم میرے ساتھ رہتی تھی بستر پر راتوں کو تم مجھ کو سیف الملوک اور پریوں کی کوئی کہانی سناتی تھی آسمان میں پورا چاند دیکھ کر مجھے تامچینی کی تھالی میں تمہاری روٹی یاد آتی تھی مچل کر میں جب روٹی بنانے کی تم سے ضد کرتی تھی تو ہنس کر ٹالتی مجھ کو تم یہ ...

مزید پڑھیے

عینک کی قبر

اپنی بینائی کھوتی آنکھوں سے کمرے میں بکھری پرچھائیں کو دیکھ کر میں نے کہا میں تنہا نہیں ہوں اپنی ہمجولی عینک کے ساتھ سیر کرتی ہوں دور دراز علاقوں تک گھوم آتی ہوں تاریخ کے تہہ خانوں میں اور فلسفی کے ذہنوں کے راز جان لیتی ہوں کبھی شرما کر سمٹ جاتی ہیں یادوں کی پرچھائیاں تب میں ...

مزید پڑھیے

گر تم مجھے پہچان لو

میں خدا کی تخلیق کردہ اک ایسی نظم ہوں جس کی نغمگی اور ترنم روح کے تاروں میں رواں دواں تمہاری فکر کے پاکیزہ لمس سے جلا پائے مگر تم جسم کے جنگل میں الجھ کر حیوان بن گئے ہو اور روح کے آہنگ سے محروم رہ کر نہیں جانتے کہ خدا نے اس جسم میں ہی ملفوف کرکے تمہیں نوازا محبت کے الوہی سروں سے گر ...

مزید پڑھیے

پتھر کی زنجیر

کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں چیخوں کا یہ ساز شاہی در پر کیا اپناؤں فریادی انداز جنبش کا احساس نہ کوئی مدھم سی آواز ٹھہرے لمحے کے قصے میں آخر نہ آغاز شورش گر آغاز کرے تو منصف کرے سوال پوچھے تو میں کھولوں سارے ظالم شب کے راز راز کھلیں تو شاید اپنی کھل جائے تقدیر لیکن بے حس عادل گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 367 سے 960