شاعری

پیارا ہندوستان

جس کا ہے سب کو گیان یہی ہے سارے جہاں کی جان یہی ہے جس سے ہے اپنی آن یہی ہے میرا نواس استھان یہی ہے پیارا ہندوستان یہی ہے ہنستا پربت ہنس مکھ جھرنا پاؤں پسارے گنگا جمنا گودی کھولے دھرتی ماتا میرا نواس استھان یہی ہے پیارا ہندوستان یہی ہے ایک تو اونچا سب سے ہمالہ اس پر میرے دیش کا ...

مزید پڑھیے

پریم چندؔ ایک تھا ایک سے اک جہاں بن گیا

مفلسی تھی تو اس میں بھی اک شان تھی کچھ نہ تھا کچھ نہ ہونے پہ بھی آن تھی چوٹ کھاتی گئی چوٹ کرتی گئی زندگی کس قدر مردہ میدان تھی جو بظاہر شکستہ سا اک ساز تھا وہ کروڑوں دکھے دل کی آواز تھا راہ میں گرتے پڑتے سنبھلتے ہوئے سامراجی کے تیور بدلتے ہوئے آ گئے زندگی کے نئے موڑ پر موت کے راستے ...

مزید پڑھیے

آہ گاندھی

ترے ماتم میں شامل ہیں زمین و آسماں والے اہنسا کے پجاری سوگ میں ہیں دو جہاں والے ترا ارمان پورا ہوگا اے امن و اماں والے ترے جھنڈے کے نیچے آئیں گے سارے جہاں والے مرے بوڑھے بہادر اس بڑھاپے میں جواں مردی نشاں گولی کے سینے پر ہیں گولی کے نشاں والے نشاں ہیں گولیوں کے یا کھلے ہیں پھول ...

مزید پڑھیے

دیوالی

گھٹ گیا اندھیرے کا آج دم اکیلے میں ہر نظر ٹہلتی ہے روشنی کے میلے میں آج ڈھونڈھنے پر بھی مل سکی نہ تاریکی موت کھو گئی شاید زندگی کے ریلے میں اس طرح سے ہنستی ہیں آج دیپ مالائیں شوخیاں کریں جیسے ساتھ مل کے بالائیں ہر گلی نئی دلہن ہر سڑک حسینہ ہے ہر دیہات انگوٹھی ہے ہر نگر نگینہ ہے پڑ ...

مزید پڑھیے

بجھتی ہوئی سرد شام

آخری دن کا ڈوبتا سورج تیری چوکھٹ پہ سجدہ ریز اپنی کرنوں کے خالی کشکول الٹ کر تھکی ہوئی یخ بستہ نگاہوں سے میری دنیا کی تاریک راہداریوں میں گزرے ہوئے پل کی کسی پر افشاں ساعت کی تلاش میں ہے مگر تا حد نگاہ پھیلی ہوئی مخلوق خالق لم یزل سے امید نو کے کاسے پھیلائے اپنی پلکوں کی منڈیروں ...

مزید پڑھیے

چراغ اگنے کے دن نہیں ہیں

زماں کی گردش خطوط جتنے بھی امن و الفت کے تم نے ہم کو دیے ہیں اب تک ذرا رکو تو ہمیں بتاؤ تمہارے لفظوں کی آستینوں میں کیا چھپا ہے وہ کوہ قافی قبیلہ جس نے نئے زمانوں کو سرخ چادر سے ڈھانپ لینے کا حکم صادر کیا ہے پھر سے وہ نوچتا ہے ان آئنوں کو کہ جن پہ سورج کا عکس چھلکے تو روشنی ہو خدا کے ...

مزید پڑھیے

دستک

ہر طرف کیوں ہے دھواں خیمۂ جاں میں لرزتے ہیں دیے خواہش کے اور کسی لو کو سرکنے کی اجازت بھی نہیں کسی امید کا در کھلتا نہیں کسی قرطاس پہ کھلتے نہیں روشن لہجے کیا اجالوں کے صحیفوں کو مسیحا نے جلا ڈالا ہے کیوں درختوں نے پرندوں کے ترانوں میں اداسی پھونکی آؤ اک عہد کریں کوئی تابوت ...

مزید پڑھیے

مرے خواب سو جا

مرے خواب سو جا مری آنکھ میں تیرتی خانقاہوں میں اب سانس لیتے ہوئے سارے درویش مٹی کی خوشبو کو ترسے ہوئے ہیں مجھے تو نے جتنے زمانوں کی دھوپوں سے دھویا ہے اب تک وہ نفرت عداوت سے گوندھی ہوئی ہیں جو صدیوں کے چہرے دکھائے ہیں تو نے وہ سب کھردرے ہیں مری نیندیں ان سے ادھڑنے لگی ہیں مرے خواب ...

مزید پڑھیے

آؤ ہم رقص کریں

آؤ ہم رقص کناں شہر طلسمات میں جذبات کے رنگوں سے زمانے کی نگاہیں بھر دیں آؤ ہم رقص کریں ہم وہ کردار ہیں جو کئی صدیوں کا سفر کاٹ کے آئے ہیں یہاں سبز جھیلوں پہ عیاں عکس ہمارے ہی تو ہیں آؤ خوابوں کو کسی لے میں پروتے ہیں غزل کہتے ہیں جس میں ہوں درد سبھی ہم ہیں گم گشتہ صداؤں کے خزینے جو ...

مزید پڑھیے

تعلق اب بجھا دو

مرے جگنو رکو اپنے بدن سے میری خوشبو جھاڑ ڈالو تعلق چند گھنٹوں کے لیے مجھ سے بجھا دو اور اپنی آنکھ میں اجلے دنوں کے نقش کھینچو مری باتوں کا ہر اک لمس دھو ڈالو مرے جگنو کبھی اسکول میں یہ مت بتانا کہ ہوں مزدور کا بیٹا وگرنہ سارے بچے بوجھ بستوں کا تمہارے کاندھوں کاندھوں گاڑیں گے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 365 سے 960