شاعری

خاموش رہو

جو کچھ دیکھو وہ نہ کہو خاموش رہو سوچو لیکن لب سی لو خاموش رہو خودداری کا خون کرو خاموش رہو آگاہی کا کرب سہو خاموش رہو تم ہو مہذب کیوں کرتے ہو شور و غل چین سے اپنے گھر بیٹھو خاموش رہو ہر لفڑے سے بھاگو جتنا بھاگ سکو ہر جھگڑے سے دور رہو خاموش رہو آگ لگے انسان مریں یا شہر لٹے تم نہ ...

مزید پڑھیے

میر انیسؔ

منظر و مرثیہ و رزم و سراپا کیا کیا نہ لکھا میر انیسؔ آپ نے تنہا کیا کیا نظم میں ہوتی ہے کردار نگاری کیوں کر آپ دکھلا گئے ہم لوگوں کو رستہ کیا کیا اور جذبات نگاری کی طرف رخ جو کیا رکھ دیا کھینچ کے قرطاس پہ نقشہ کیا کیا آپ کی لونڈی فصاحت بھی بلاغت بھی ہوئی روزمرہ سے کلام اپنا ...

مزید پڑھیے

خواہش

اندھیری رات دور تک کہر ہی کہر ہوائیں مست بدمست کہ راہ میں ایک چراغ ٹمٹماتا سا دھڑکتا سا لہراتا سا کاش کہ اس کی لو بڑھ جائے اور بچا لے وہ کسی راہگیر کو بھٹکنے سے

مزید پڑھیے

فلسفۂ حیات

زندگی کیا ہے پیار ہے محبت ہے حسن ہے حقیقت ہے عشق ہے عبادت ہے علم ہے دانائی ہے قلندری ہے سکندری ہے نعمت ہے اور رفعت ہے آئنہ ہے سراب ہے کل ہی کی تو بات ہے زندگی زندگی سے مل رہی تھی گلے آج موت سے ہمکنار ہے زندگی کیا ہے ایک فلسفۂ‌ حیات ہے

مزید پڑھیے

فرق

میں بھی پیدا ہوئی وہ بھی پیدا ہوا میں آئی تو خوشیاں بہت تھیں مگر وہ آیا تو شادیانے بجے میں فکر ماں باپ تھا وہ فخر‌ ماں باپ تھا میں غم خوار تھی وہ جلالی بہت تھا میں فرماں بردار تھی وہ باغی بہت تھا میں زمیں تھا وہ آسماں تھا میرا بچپن چھینا گیا اس کو بچہ سمجھا گیا میں خطا‌ وار تھی ...

مزید پڑھیے

رفتار

زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی ایک دن ہواؤں نے زور پکڑا طوفان آ گیا باغ کے سارے پیڑوں کو ہلا گیا ہوائیں شائیں شائیں کرتی رہیں چھوٹے بڑے پودے چنگھاڑتے رہے پیڑ جھوم جھوم کر نڈھال ہو گئے اور آخر کار تھک کر بے حال ہو گئے اچانک زور کی چرچراہٹ ہوئی باغ کا سن رسیدہ درخت زمیں بوس ہو ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

جھگیوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے تھے فٹ پاتھ پر قطار پہ قطار ڈھانچے پڑے تھے کالے پیلے آسیب زدہ چہرے کھڑے تھے پھٹے پرانے جسم پر لتے پڑے تھے دھول سے ان کے چہرے اٹے پڑے تھے ہاتھ خالی پیٹ خالی روٹیوں کے لالے پڑے تھے میرے ملک کے یہ بچے متوالے بڑے تھے بھارت ماں کی جے کے نعرے لگے تھے کہ یہ ...

مزید پڑھیے

التجا

ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتے ہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیں اور چین سے سو جاتے ہیں صبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیں ہمیں ایسے مت دیکھو جیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہے ہمیں ایسے دیکھو جیسے مرنے والا گورکن کو دیکھتا ہے

مزید پڑھیے

حادثہ

نظم مر گئی اس دن جب میں نے بیس روپے بچانے کے لیے موٹر گاڑی کو رکشے پہ فوقیت دی اب میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو کمبخت رکشے والے کی بے بس آنکھیں کاغذ میں سے جھانکتی ہیں میں ڈایری پھینک دیتی ہوں

مزید پڑھیے

نگیٹوٹی

مرنے اور مارنے والے ایک ہی قبیلے سے تھے خوش ہو کر تالیاں بجانے والے سفید براق کپڑے پہنے ہوئے تھے ماتم کرنے والے زندگی سے بھاگے ہوئے دو بزدل لوگ تھے جو ایک لفظ کو صحیح جگہ پر رکھنے کے لیے گھنٹوں پریشان رہتے تھے بہ ہر حال طے ہوا کہ عالم انسانیت کو بزدلوں سے پاک کیا جائے ورنہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 355 سے 960