شاعری

پھولوں کی سیج پر

جب تم وہ پڑھنا چاہتے ہو جو مجھے لکھنا نہیں آتا اور ناامید ہو کر اپنے چہرے کے نقوش بدل دیتے ہو ہماری آنکھوں کے بیچ سات زمینیں اور سات آسمان آ جاتے ہیں اور میری آنکھیں تاریخ کے کھوئے ہوئے اوراق ڈھونڈنے لگ جاتی ہیں تم پوچھتے ہو ایسے کیوں دیکھتی ہو میں واپس آ جاتی ہوں اور تمہیں سچ مچ ...

مزید پڑھیے

لاڈلی

ستر جوڑے سلوائے میری ماں نے میرے لیے سارے اپنی ناپ کے

مزید پڑھیے

ووٹ آف تھینکس

شکریہ سب باغبانوں کا جنہوں نے اپنی محبت اور لگن سے میرے دل کی زمین کو اس قابل بنایا کہ اب وہاں صرف بے حس کی جھاڑیاں اگتی ہیں

مزید پڑھیے

بازی

وہ جیتا میں ہاری میں روئی وہ ہارا میں جیتی میں روئی

مزید پڑھیے

التجا

ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتے ہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیں اور چین سے سو جاتے ہیں صبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیں ہمیں ایسے مت دیکھو جیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہے ہمیں ایسے دیکھو جیسے مرنے والا گور کن کو دیکھتا ہے

مزید پڑھیے

روشنی کے خدا

یہ جو دیواریں میں نے گرا دی ہیں جو ہاتھ زخمی کیے ہیں تم سوچتے ہو کہ سب روشنی دیکھنے کے لیے تھا روشنی کے خدا میں نے چاہا تھا سورج مجھے دیکھ لے

مزید پڑھیے

ویدر پِرِڈکشن

بھلی لڑکی تجھے معلوم بھی ہے اگر ہم دس برس پہلے بتاؤ پتہ ہے میں تمہارے گھر میں ہوتی اور اس ٹیبل پہ کوئی اور ہوتی

مزید پڑھیے

کاؤنٹر اٹیک

میں نے صرف ایک بات کی اس کی ایک سو باتوں کے جواب میں اس لیے میرے بدن میں ایک سو تیر ہیں دل میں ایک چھید ہے

مزید پڑھیے

غلام کا دکھ

میں اک غلام ہوں مگر یہ ظلم کب تلک سہوں میں اپنے مالکوں سے کس طرح کہوں کہ میرے بھائیوں کو مجھ سے زیادہ روٹیاں نہ دو خدا کے واسطے یہ ظلم مت کرو

مزید پڑھیے
صفحہ 356 سے 960