شاعری

بچپن کا گیت

چھوتی میں اس مست پون کو کاش میں کوئی پنچھی ہوتی آسماں ہوتا سائباں میرا کسی شجر پر رہتی ہوتی ان پھولوں سے ان کلیوں سے اپنی باتیں کہتی ہوتی نیل گگن میں پر پھیلائے پہروں بس میں اڑتی ہوتی میرے ہوتے دوست نرالے مور کبوتر تیتری ہوتی ان کے ساتھ میں ہنستی بولتی دانا دنکا چگتی ہوتی کتنی ...

مزید پڑھیے

بیاد‌‌ شمیمؔ کرہانی

اف یہ پچھلے پہر کا سناٹا ذہن پر ڈنک مارتا جائے ایک اک زخم ابھارتا جائے بھولا بسرا ہوا سا اک چہرہ میرے اشکوں میں ڈوب کر نکلا اور میرے لرزتے ہونٹوں پر سج گیا ایک آہ کی صورت ایسی لمبی کراہ کی صورت چیر کر دل کو جو نکلتی ہے بے ریائی خلوص لطف و کرم خوش دلی مہربانیاں شفقت حسن شبنم ...

مزید پڑھیے

گاندھی جی کی آواز

سلام اے افق ہند کے حسیں تارو سلام تم پہ سپہر وطن کے مہ پارو سلام تم پہ مرے بچو اے مرے پیارو بھلائے بیٹھے ہو تم مجھ کو کس لئے یارو جلاؤ میرے پیامات کے دئے یارو سنو کہ میری تمنا و آرزو تم ہو سنو کہ مادر بھارت کی آبرو تم ہو سنو کہ امن زمانہ کی جستجو تم ہو خموش بیٹھے ہو کیوں اپنے لب سیے ...

مزید پڑھیے

عطائے توبہ لقائے تو

تیری باتوں میں ترا فن تیرے فن میں تیری بات کیوں ہو تیرے باب میں پھر کاوش ذات و صفات پہونچی غم کی روح تک جن کی نہ کوئی ایک بات عشق میں جھیلے ہیں تو نے ایسے بھی کچھ سانحات زندگی کو زندگی کرنا کوئی آساں نہ تھا ہضم کر کے زہر کو تو نے کیا آب حیات ہے کہاں احساس کی ایسی ریاضت کا جواب ہوتی ...

مزید پڑھیے

زباں سے نفرت کیوں

جہاں بھی چھانوں گھنی ہو قیام کرتے چلو ادب جہاں بھی ملے احترام کرتے چلو ہر اک زبان کو یارو سلام کرتے چلو گروہ کی ہے نہ فرقے کی اور نہ مذہب کی زباں وراثت‌ انسانیت ہے ہم سب کی زباں کے باب میں من اور تو کی حد کیسی کوئی زبان ہو انساں کو اس سے کد کیسی زبان پاک ہے گاؤں کی گوریوں کی ...

مزید پڑھیے

بازار

بول اے شاعر اے نغمہ گر بیچے گا فن کو بیچے گا بول اپنے من کو بیچے گا اپنے شہ پارے بیچے گا اپنی تحریریں بیچے گا یہ اپنی برہنہ گفتاری یہ شعلہ بیانی بیچے گا یعنی جو ترے لفظوں میں ہے خنجر کی روانی بیچے گا ڈھلتا ہے جو تیرے خوابوں میں وہ رنگ بہاراں بیچے گا پلتا ہے جو تیرے سینے میں وہ ...

مزید پڑھیے

ہم بھارت کے رکھوالے ہیں

ہم بھارت کے رکھوالے ہیں سب اس کے بچے بالے ہیں کیسے یہ بہاری کشمیری اور کیا ہیں یہ اترپردیشی کیسے پنجابی آسامی کیسے مدراسی بنگالی سب کے سب بھارت والے ہیں سب اس کے بچے بالے ہیں سب بھارت کے رکھوالے ہیں ہو نردھن یا دھنوان کوئی ہو دھرم کوئی ایمان کوئی یا بتلائے رحمان کوئی یا کہتا ...

مزید پڑھیے

سناٹا

دل کشی گو افق تا افق ہے مگر دل کشی کچھ نہیں سر خوشی بھی طبق در طبق ہے مگر سر خوشی کچھ نہیں راگنی کچھ نہیں چاندنی کچھ نہیں آنچلوں میں کوئی سرسراہٹ نہیں پائلوں کی کہیں چھن چھناہٹ نہیں پنگھٹوں پر بھی کچھ گنگناہٹ نہیں رسمساہٹ نہیں جگمگاہٹ نہیں مسکراہٹ نہیں چپ ہیں پگڈنڈیاں سرنگوں ...

مزید پڑھیے

طلب گار مرد تھا

رات کی زلف سیہ اور سنورتی ہی رہی رات کی زلف سیہ اور سنورتی ہی رہی چاند کی بکھری ہوئی سرد شعاعوں سے الگ اور کھمبوں کی سلگتی ہوئی آنکھوں سے الگ اک نظر تھی جو خلاؤں میں بھٹکتی ہی رہی سلوٹیں سوچ کی گہری ہوئیں گہری ہو کر میرے ماحول پہ چھائی گئیں چھاتی ہی گئیں میری بے تاب نظر چرخ سے ...

مزید پڑھیے

شہیدوں کو سلام

ساری مصیبتوں کو جو ہنس ہنس کے سہہ گئے دار فنا میں صرف وہی زندہ رہ گئے وہ جوش تھا کہ پھاند گئے کوہسار بھی وہ عزم تھا کہ اٹھے تو تا مہر و مہ گئے سینوں میں صبر و ضبط کی وہ تیز آگ تھی ظلم و ستم کے کوہ گراں گل کے بہہ گئے تاریکیوں کو مطلع انوار کہہ گئے ظلم و ستم کو طالع بیدار کہہ گئے تا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 354 سے 960