شاعری

مجھے خود یقیں ہے

مجھے خود یقیں ہے ابھی اور کچھ روز تم میری انگلی پکڑ کر چلو گے مگر جلد ہی جب سہاروں کی حد سے گزر جاؤ گے اپنی بیساکھیاں پھینک دو گے مری لاش پر سے گزر جاؤ گے

مزید پڑھیے

احساس

لفظ کچھ ہی سہی اک علامت ہے تفہیم کی فہم حس تحفظ کا اک آئینہ اور گل کاریٔ عکس کے واسطے روح کافی نہیں جسم بھی چاہیے پیکریت وہی ہے جو باندھے نظر جن کی ویرانیاں منتظر ہیں مری روشنی ایک پردہ ہے جن کے لئے خون کی چپچپاہٹ لئے ان زمینوں تلک میں نہ پہنچا اگر سب کی سب رائیگاں جائیں گی کس ...

مزید پڑھیے

تضاد شام

مجھے شام سے پہلے آفس کے بلڈاگ کو فائلیں سونپنی تھیں مرے ساتھیوں نے جو خاکے رچے تھے اپاہج کی صورت مرے سامنے تھے مری افسری میرے کیبن میں بھوکے ببر شیر سی ہو رہی تھی مرے ماتحت اپنے چہرے بنائے ہوئے بے زباں ہو رہے تھے اپنے تصور کی درگت پہ سر پیٹتا تھا اچانک وہ لڑکی جو پچھلے مہینے ...

مزید پڑھیے

امتیاز

نور کی بے اعتنائی جس طرح تاریکیاں جس طرح بنیاد شر ہے خیر کی خاموشیاں چھاؤں جیسے دھوپ کی ہے بے بسی ہر سزا کا جس طرح رد عمل ہے سرکشی جیسے اک ڈالی کے ہیں دو پھول خوف و اعتقاد خود فریبی کی جڑوں کو گھاؤ پہنچاتا ہے جیسے اعتماد جس طرح پرچھائیں ٹھہرے جذب کی کم مائیگی دشمنی کا تخم جیسے ...

مزید پڑھیے

سوچ بن

میری مجروح خلوت دہائی پہ اترے بھی تو کس طرح زہر شر شربت خیر کے ذائقے میرے نطق و زباں کے لئے وقف ہیں صرف سود و زیاں کے لئے وقف ہیں میں تصور کا محتاج صورت گری سے بہلتا رہوں ذہن کے نیم اجالوں میں گرتا سنبھلتا رہوں حلقۂ روز و شب سے مچلتی ہوئی ساری چنگاریاں مجھ پہ برسا کریں بحر ادراک کے ...

مزید پڑھیے

یقیں

جھماکہ نور کا ہوگا لہو کو اک نئی رنگت ملے گی پسینے کی جگہ موتی ڈھلیں گے جگہ فرماں رواؤں کی غلاموں کو ملے گی ابلتے چوک ہوں یا بند کوچے ہوا کی جانچ ہوگی کڑی دھوپوں کی شاخیں قطاریں چھلنیوں کی چھانٹ دیں گی مضر کرنوں کو ہوں گے قید خانے کھلی آنکھوں کو زہر اور زہر پیکر نہ دیں پائیں گے ...

مزید پڑھیے

اک مکالمہ

آہ کو پوچھا کہا میری جناب عشق کو پوچھا کہا میرے حضور حسن کو پوچھا کہا پرتو مرا بے اعتنا و بے نیاز رنگ اندھوں کے لئے سربستہ راز میں نے پوچھا کیا ہے پھر سوز جگر کہہ دیا تاثیر کل آئینہ گر جب کریدا خلوت و جلوت کے کیا معنی ہوئے روشنی پھوٹی کہ جلوت میری بزم کائنات بابت خلوت نشان طور ...

مزید پڑھیے

تسلی

راستے کے پیچ و خم دشمن سہی فاصلے ہیں منحصر رفتار پر کان مت دھرنا دل آزردہ کی سسکار پر کیا ہوا چلو جو چھلنی ہیں ابھی ہونٹ کیوں ہوں تشنگی کے اشتہار کیا ہوا سوچے ہوئے منظر جو ہاتھ آئے نہیں آنکھ سا دریا بنے کیوں ریگ زار ناز ہو تحصیل کا یا نارسائی کا ملال ہر تگ و دو ہے قوی کا اشتعال سوچ ...

مزید پڑھیے

رخ بہ رخ

سرخ منڈی ہرا تیل پیلی کھنک تین صفحوں کا اخبار ہے زندگی اشتہارات کی بھیڑ میں چاندنی اپنی پازیب کی جھنجھناہٹ پہ روئی ہوئی روشنی ایک اک لفظ بے رنگ کی پیکریت چھوانے پہ مامور ہے عکس جتنے بھی ننگ بصیرت ہیں سب صاف کرکے دکھانے پہ مجبور ہے کیوں دہائی نہ دوں اے شکست نظر آسماں لفظ ہے اور ...

مزید پڑھیے

حیرت

پیار تمہارا جوہی کی بیلوں سے لپٹا ایک دریچہ خوشبو خوشبو چاند تاروں تاروں رات کی ٹھنڈک صبح کا تازہ کہرا پیاسوں کی مقبول دعا یا رم جھم رم جھم بارش صحرائی دھوپوں سے جھلسا میں ریتیلا پیکر میری آنکھیں مٹی پتھر دھول میں مہماں منظر جانے تم نے کیوں کر سوچا کہرے سے مٹی بھیگے گی بارش میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 280 سے 960