عوامی صبح
عوامی صبح پھر آئی زمیں نے کر لیا رخ اپنا پھر سورج کے اس نقطے کی جانب جہاں یاران ہم مجلس نے امیدوں کی کرنوں کا سہانا روپ دیکھا تھا کئی صدیوں کی ظلمت کی تہوں سے کنواری دھوپ کا گھونگھٹ اٹھایا تھا قفس کی کھپچیوں پر لیٹ کر آزاد آنکھوں سے کئی سپنے بنے تھے جہاں سے اک نئے احساس کا ہالا ...