شاعری

عوامی صبح

عوامی صبح پھر آئی زمیں نے کر لیا رخ اپنا پھر سورج کے اس نقطے کی جانب جہاں یاران ہم مجلس نے امیدوں کی کرنوں کا سہانا روپ دیکھا تھا کئی صدیوں کی ظلمت کی تہوں سے کنواری دھوپ کا گھونگھٹ اٹھایا تھا قفس کی کھپچیوں پر لیٹ کر آزاد آنکھوں سے کئی سپنے بنے تھے جہاں سے اک نئے احساس کا ہالا ...

مزید پڑھیے

گردش

سراپا آگ کا مٹی کے پیکر کو گھلائے جا رہا ہے زمیں کے جسم کا سایہ خلاؤں سے پلٹ کر اسی کے اپنے آدھے جسم کو ہر لمحہ کالا کر رہا ہے یہی جادو مسلط ہے ازل سے کئی پگڈنڈیوں کا جال سا پھیلا ہوا ہے گزر گاہوں کے کچھ شفاف کچھ موہوم خاکے ہمیں گرم سفر رکھے ہوئے ہیں سراپا آگ کا

مزید پڑھیے

اگلے لمحے کا خوف

اس جنگل کے چاروں جانب آگ کی اونچی دیواریں ہیں اس کے گھنے گھنے پیڑوں میں اک بہت پرانا تال چھپا ہے جس کا پانی صدیوں کے رستے جتنا گہرا ہے وہ مچھلی اس میں رہتی ہے جس کے پیٹ میں جادو کا وہ منکا ہے جو ہر جادو کا توڑ بنا ہے جنگل کے سب چپ چپ رستے جھاڑی جھاڑی گھوم گھام کے تال کی جانب آتے آتے ...

مزید پڑھیے

سفر رائیگاں

یہ پگڈنڈی چلتے چلتے جنگل میں سے پھرتی پھراتی دور ہیں گھنے گھنے پیڑوں میں چھپے اک مندر تک لے جاتی ہے بہت پرانی کائی زدہ سی سیڑھی چڑھ کر مندر میں جب داخل ہوں تو فرش کے اوپر بکھرے ہوئے کچھ پیلے پتے ملتے ہیں یا کہیں کہیں پہ جلتی جلتی آنکھوں والے سانپ دکھائی دیتے ہیں دیواروں پر نقش ...

مزید پڑھیے

آس محل

ایک رو پہلی سی چوٹی پر جگ مگ جگ مگ جاگ رہا ہے آس محل اونچی اونچی رنگ رنگیلی دیواریں ہیں چاروں جانب ہر پتھر پر مانی اور بہزاد سے بڑھ کر نئے انوکھے نقش بنے ہیں دیواریں ہیں کتنی انوکھی جن میں لاکھوں طاق بنے ہیں ان طاقوں میں میری آنکھیں لرزاں لرزاں دیپک بن کر ہر دم جلتی رہتی ہیں اور ...

مزید پڑھیے

ن م راشدؔ کے انتقال پر

یہ رات ہے کہ حرف و ہنر کا زیاں کدہ اظہار اپنے آپ میں مہمل ہوئے تمام اب میں ہوں اور لمحۂ لاہوت کا سفیر محو دعا ہوا مرے اندر کوئی فقیر سینے پہ کیسا بوجھ ہے ہوتا نہیں سبک ہونٹوں کے زاویوں میں پھنسا ہے ''خدا...خدا'' کیا لفظ ہے کہ جیبھ سے ہوتا نہیں ادا کمزور ہاتھ ہیں کہ نہیں اٹھتے سوئے ...

مزید پڑھیے

جینا ہے مجھے

پھر خیال آیا کہ جینا ہے مجھے جس طرح ایک تھکا ماندہ پرندہ لاکھ ہو برف بہ جاں لاکھ ہو آہستہ سفر اک بلندی پہ تو ہوتا ہے ضرور زیر پرواز کوئی گہرا سمندر ہے تو کیا اسے اوپر سے گزر جانا ہے

مزید پڑھیے

آخری موسم

زماں مکاں کے ہزار ہنگامے قلب خستہ کو اس طرح ڈھیر کر گئے ہیں کہ جیسے اک خشک خشک پتے کی کپکپاتی ہوئی رگوں سے چپک رہی ہو تمام ماحول کے مناظر کی ماندگی بھی ہر ایک جھونکے کی خستگی بھی یہ خشک پتہ ہوا کے مبہوت دائروں میں زمین سے سر پٹک کے اپنی تمام رنگت بدل چکا ہے اب ایک پتھر کے یخ زدہ اور ...

مزید پڑھیے

رقص

ناچ ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر پھیل جائے تری جھن جھن کا حسیں پیراہن ناچ ہاں ناچ کہ سینے میں ترے ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے بازوؤں کو کبھی ہونے دے دراز جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو فرش آواز پہ رکھ اپنے پر اسرار قدم اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جادو پی ...

مزید پڑھیے

کوئی خواب خواب سا فاصلہ

لب زرد پر کوئی حمد ہے کہ گلہ کہو مری پیلی آنکھ میں بجھتے خوں کا الاؤ ہے کہ طلا کہو مرے دست و بازو میں آج بھی کوئی لمس قید ہے اور سینے کی بے وقاری کے اندروں کوئی حرف اپنا ہی صید ہے کہ جسے رسائی نہ مل سکی یہ مری جھجھک کی برید ہے کہ صلہ کہو کبھی ایک بات نہ کہہ سکوں کبھی اب کہ چیخ مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 281 سے 960