شاعری

شام کی اڑان

شام کے سرمئی اندھیرے میں اک پرندہ اڑان بھرتا ہے چاہتا ہے کسی کا ساتھ ملے رات کی بے قراریوں کا عذاب یاد کر کے وہ کانپ اٹھتا ہے اس لیے شام کے دھندلکے میں گھونسلے کو وہ چھوڑ دیتا ہے اور مسلسل سفر میں رہتا ہے لیکن اس کا سفر سدا کی طرح تشنگی کا عذاب سہتا ہے

مزید پڑھیے

جنگل کی لکڑیاں

پہاڑی راستوں پر لکڑیوں کی گٹھریاں سر پر سنبھالے جا رہا ہے آدی واسی عورتوں کا قافلہ یہ قافلہ کچھ دور جا کر گاؤں کے بازار میں ٹھہرے گا اور پھر لکڑیاں سر سے اتاری جائیں گی خوب صورت جنگلوں سے کاٹ کر لائی گئی یہ لکڑیاں بازار کی زینت بنیں گی لکڑیوں کا بوجھ ڈھو کر لانے والی عورتیں خاموش ...

مزید پڑھیے

تیری آواز

راہ میں چلتے ہوئے بھیڑ سے اکتائے ہوئے تیری آواز سنی میں نے کئی سال کے بعد سوچ کر ذہن پریشان رہا دیر تلک شہر کے شور خرافات کے ہنگاموں میں تیری آواز جو آئی تو کہاں سے آئی پھر کسی وہم کے نرغے میں تو میں آ نہ گیا تیری آواز کا سرگم کہیں دھوکا تو نہیں دیر تک ذہن سوالات میں الجھا ہی ...

مزید پڑھیے

ندی کو دیکھ کر

ندی کے حال کو اب دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ندی کا ایک ماضی تھا نہ جانے کتنی تاریخی کتابوں میں ندی کی اہمیت کے ان گنت ابواب روشن ہیں ندی تہذیب کا مسکن رہی ہے اسی کی موج نے آغاز میں انسان کو واقف کرایا ارتقائی مرحلوں سے اسی کے صاف اور شفاف پانی نے یگوں تک مختلف نسلوں کی دل سے آبیاری ...

مزید پڑھیے

بدل لی بیچ سفر میں

بدل لی بیچ سفر میں ہی راہ آپ نے بھی کہ زر کی چھاؤں میں لے لی پناہ آپ نے بھی مری امید کو اک دن اجڑ ہی جانا تھا خود اپنی ذات کیوں کر لی تباہ آپ نے بھی بجا کہ عشق بھی کچھ کچھ تھا مصلحت کا شکار ہوا کے رخ کی طرح کی ہے چاہ آپ نے بھی کبھی تو دھڑکنیں دل کی سنائی دیتی تھیں سنی نہ جگ کی طرح آج ...

مزید پڑھیے

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں کچھ روز اصولوں کی خاطر ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں پھر وقت کے ساتھ ہر شے میں تبدیلی آ جاتی ہے پتھر پر سبزہ اگتا ہے بالوں میں چاندی پکتی ہے غصہ کم ہو جاتا ہے بستی کے مہذب لوگوں میں ہم سنجیدہ کہلاتے ہیں

مزید پڑھیے

حاصل

کیا عجب کھیل ہے جو شخص قریب آتا ہے اپنے ہم راہ نئی دوریاں لے آتا ہے

مزید پڑھیے

نفی

نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں تیرے سوا کچھ بھی نہیں یہ زمیں یہ آسماں یہ حضر یہ سائباں سارا جہاں کچھ بھی نہیں تیرے سوا اور میں تیرے سوا

مزید پڑھیے

خود شناسی

اس بستی میں مجھ سے بہتر لوگ بہت ہیں مجھ سے کمتر لوگ بہت لوگوں کی اس بھیڑ میں لیکن میرے جیسا کوئی نہیں

مزید پڑھیے

آواز کا وہم

کون تھا کس نے پکارا تھا مجھے کوئی نہیں کوئی نہیں بس وہم تھا وہم کی آواز نے چونکا دیا اس زمیں پر کیا کوئی ایسا نہیں جو مجھے آواز دے اک خلا ہے اور خلا کے اس طرف تیرگی ہی تیرگی تیرگی کی آنکھ میں تشنگی ہی تشنگی ہاں مگر اس تیرگی اس تشنگی اس خلا کے اس طرف کوئی تو ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 279 سے 960