شاعری

لمحوں کا کرب

دل افسردہ کی آرزوؤں کے رمیدہ لمحو تمہاری بے کیفی کے قافلے رفتہ رفتہ حریم جاں سے گزر رہے ہیں اور تمہیں پتہ ہے کہ آسماں کی بلندیوں پہ پہنچ کے انسان مردہ ہو چکا ہے تو پھر کشید جاں سے نکال کر کوئی حسین منظر قطرہ قطرہ حیات کی تشنگی کے اس کاسۂ تہی میں ڈالو تاکہ ثبات کی خاطر بھٹکے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جسم کی تلاش

جسم بھی ٹوٹ چکا کون اسے پہچانے روح میری مجھے آواز نہ دے پائی کبھی راستے بھی مری پرچھائیں سے آگے نہ بڑھے اور احساس کی قندیل بجھی شام ڈھلے رات گزری تو ہوا یوں محسوس نیم وحشی سی کہانی تھی سنانے کو جسے صبح نو جیسے دبے پاؤں چلی آئی مرے کمرے میں اور میں شہر خموشاں میں کئی صدیوں تک یہی ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ مٹا دیں

سڑکوں پہ نالیاں کمروں میں مکڑی کے جالے بے معنی شامیں بے مطلب سحر کے اجالے روشنی پھیلی کھڑکیاں کھلیں گنگناہٹیں جاگیں سڑکوں پر جی اٹھا پھر ایک شہر بند ہو گئیں سرسراہٹیں جھیلیں گے سب سر ہے آسمان کے حوالے فرش پر گرے گھونسلے بکھر گیا تنکوں کا میلا لاکھوں خبروں کی بھیڑ میں ایک خبر ...

مزید پڑھیے

امانت

میں سالہا سال سے ایک چھوٹی سی پوشیدہ آرزو کا امین ہوں میرا ایک مختصر سا خوب صورت لکڑی کا مکان آنگن میں دانہ چگتی ہوئی مرغیاں کچھ پالتو جانور گائیں بھینسیں بکریاں اور چاروں سمت سبز رنگ میں لپٹے ہوئے کھیت ہی کھیت میٹھے پانی سے لبریز گہرے کنوئیں اور انہیں کھیتوں کے درمیان سے ہو ...

مزید پڑھیے

وہ اک ستارہ

وہ اک ستارہ جو آسماں کی بلندیوں سے اترا غلام ہندوستاں کی مہیب تاریکیوں میں چمکا جس نے ساکت فضاؤں کو ارتعاش بخشا شعور کو بیداریاں عطا کیں اور ضمیر کو جھنجھوڑا بے فکر ذہنوں کو فکر کی حرارت سے جوڑا دلوں میں شمع آزادئ وطن جلائی کہ جس سے دلوں کے سیاہ خانے منور ہوئے وہ جانتا تھا کہ آہن ...

مزید پڑھیے

منتخب روزگار ابوالکلام آزادؔ

قدم قدم پہ عقیدت سے سر ہے خم میرا چلا ہے سوئے رہ معتبر قلم میرا دل و دماغ کو اونچا بنا دیا جس نے فیوض علم سے اعلیٰ بنا یا جس نے بڑے خلوص سے دیتا تھا درس انسانی ہوئے ہیں جس کی بدولت ضمیر نورانی وہ جس نے راہ محبت دکھائی تھی ہم کو وہ جس نے رسم اخوت سکھائی تھی ہم کو وہ جس نے برتر و ...

مزید پڑھیے

جستجو

کب سے قید ہوں چلتے پھرتے زنداں میں کانٹوں کی ردا اوڑھے ہوئے پتھروں کا پیرہن پہنے ہوئے کب سے ڈھونڈھ رہا ہوں دیس دیس جنگل جنگل صحرا صحرا خود شناسی کی بے پناہ دولت خود کو پا لینے کی یہ خواہش نہ جانے کب تک اجاگر رہے گی اور لے جائے گی سفر در سفر منزل بمنزل نہ جانے کہاں کہاں

مزید پڑھیے

خوشبو کا عمل

ایسا کیوں ہوتا ہے جب برگ زرد سکوت آشنا خلاؤں میں آوارہ خاموشیاں موسم خزاں کی علامت دھڑکنیں سماعت سے ماورا گردشیں نقطۂ انجماد پر اور پھر کوئی سرخ گلاب ٹہنی سے ٹوٹ جاتا ہے یہ کیفیت سارے چمن کو حیرت زدہ کر دیتی ہے گلاب کے جدا ہونے پر سسکیاں تو ابھرتی ہیں مگر گلاب کی خوشبو کا عمل ...

مزید پڑھیے

تعلق

جواب ملیں بھی تو پہچاننے میں زحمت ہو کریں جو بات تو ایسے کہ یہ گماں ہو جائے کہ ہم میں تم میں کوئی رسم و راہ تھی ہی نہیں

مزید پڑھیے

سانپ کمرہ اور میں

تنگ کمرے میں کچھ سانپ ہیں اور میں فرش پر لال آنکھیں دکھاتے ہوئے سرخ انگاروں سے خود کو محفوظ رکھنے میں مصروف ہوں اور کمرے کی چھت روشنی کی لکیریں سمیٹے کھڑی ہے غرض پاؤں کو سرخ انگاروں سے سر کو چبھتی ہوئی روشنی کی لکیروں سے محفوظ رکھنے میں میں منہمک ہوں کالے پیلے ہرے سانپ بھی مجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 253 سے 960