ایک بار پھر
ایک بار پھر فقیروں کا بھیس لیے میرے در پر عیار آ کھڑے ہوئے ہیں یہ وہی تو ہیں جو ایک بار پہلے مجھ سے میرا نقش لے کر ہاتھوں میں تھما گئے تھے جنت کا ایک حسین ٹکڑا جو ان کے جاتے ہی دوزخ بن گیا تھا چند سال بعد وہ مجھ سے ایک اور نقش لے کر اس کے بدلے دے گئے تھے ایک سمندر جو اس دوزخ کو بجھا ...