شاعری

ایک بار پھر

ایک بار پھر فقیروں کا بھیس لیے میرے در پر عیار آ کھڑے ہوئے ہیں یہ وہی تو ہیں جو ایک بار پہلے مجھ سے میرا نقش لے کر ہاتھوں میں تھما گئے تھے جنت کا ایک حسین ٹکڑا جو ان کے جاتے ہی دوزخ بن گیا تھا چند سال بعد وہ مجھ سے ایک اور نقش لے کر اس کے بدلے دے گئے تھے ایک سمندر جو اس دوزخ کو بجھا ...

مزید پڑھیے

عذابوں کا شہر

یہ عذابوں کا شہر ہے یہاں خود کو بچانے کے تمام حربے بے کار ثابت ہوتے ہیں جب تم سو رہے ہوگے کوئی تمہاری ٹانگیں چرا لے جائے گا اور جب تم اپنے پڑوسی سے ٹانگیں ادھار لے کر پولس تھانے رپورٹ لکھوانے کے لیے پہنچو گے تو تھانے دار رشوت میں تمہاری آنکھوں کا مطالبہ کرے گا جن کے دینے سے انکار ...

مزید پڑھیے

الفاظ کی ولادت

اس نے رمتے جوگی کے آگے روٹیاں رکھ دیں اور بہتے پانی کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے فاتحانہ انداز میں کہا: دیکھو! میں نے دونوں کو روک دیا ہے اور اب تمہاری باری ہے یہ کہہ کر اس نے میرے تمام رنگ کیچڑ میں الٹ دیے میں نے دوڑ کر قلم اٹھانا چاہا لیکن اس نے میرے ہاتھوں کے پہونچے اتروا ...

مزید پڑھیے

اور کچھ چارہ نہیں

مانس کی فصلیں جواں ہو کر پریشاں ہو گئی ہیں ہوا کی سلطنت میں ہلتے رہنے کے علاوہ اور کچھ چارہ نہیں ہے کر کے تخلیق بتا دو لوگو مانس کے پیڑ لگا دو لوگو چھین لو ساری چمک ہاتھوں سے اور پھر ان میں عصا دو لوگو جب بھی طوفاں کوئی اٹھنا چاہے ریت میں اس کو دبا دو لوگو تنگ تہہ خانوں سے باہر ...

مزید پڑھیے

ایک وصیت

دونوں ہاتھوں میں ننگی تلواریں سونت کر میں اندھیرے پر ٹوٹ پڑا اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہا لیکن اس نے میرا ہر وار خالی کر دیا میں نے ہاتھ میں بندوق اٹھا لی اور اس پر دیوانہ وار گولیاں برسانے لگا سوچا تھا، اس کا جسم چھلنی کر ڈالوں گا لیکن اس میں ایک بھی سوراخ نہ کر سکا پھر میں نے مشعل ...

مزید پڑھیے

بچپن کی آنکھیں

بچپن کی آنکھیں سڑک کے کنارے کھڑی روتی ہیں سراسیمگی کے عالم میں اپنے جوتے اور چپلیں چھوڑ کر بھاگنے والوں کی دہشت اور حیرانیاں ان میں سرایت کر چکی ہیں بچپن کی آنکھیں حیران ہیں کہ گھروں کو آگ لگانے والوں اور ان کے اندر پھنسے ہوئے خوف زدہ لوگوں کا درمیانی رشتہ ان کی سمجھ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

انہیں کہہ دو

سیڑھیاں چڑھتی ہوئی نبضوں کو روکو اوپری منزل پہ گھبرایا ہوا اک حافظہ تشکیک کے محور پہ کل شب سے مسلسل گھومتا ہے اس سے ناواقف نہیں ہم تم مگر پانی کی شاخوں میں پھنسے الفاظ دھرتی پر نہیں گرتے انہیں کہہ دو کہ بچپن سے الجھ کر جب بھی آنکھوں کے کنارے ریت کا کوئی گھروندا ٹوٹ جاتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

الفاظ الفاظ ہی ہیں

سارے الفاظ الفاظ الفاظ الفاظ الفاظ ہی ہیں دھویں سے لکھے اک بیاباں کے اندھ کار کے درمیاں بیاباں کے اندھ کاری کے درمیاں نیند کی نیلی نیلی سرنگیں کہاں کہاں کوئی ہمسائیگی خون کی سر خوشی دھرم اخلاق تہذیب انسانیت راج نیتی محبت سماج اور جمہوریت نیایے دستور رشتے دوست بھائی بہن باپ ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اس طرح گزرتی ہے جس طرح جون کے مہینے میں کوئی بوڑھا غریب پردیسی لاکھ ارماں دبائے سینے میں بوجھ سے چور اور تھکن سے نڈھال ہانپتا کانپتا پسینے میں اونچے محلوں تلے گزرتا ہو اور ہر گام آہ بھرتا ہو

مزید پڑھیے

روشنی کا سراغ

ہمارے ذہنوں پہ کتنی صدیوں کے مہیب اندھیرے کی حکمرانی میں ایک مہر لا زوال چمکا تاریک راہوں کو روشنی کا سراغ ملا نگاہ و دل کو نئی منزلوں نئی رفعتوں نئی عظمتوں کا پتہ بتا کر عمل کی اک شمع نو جلا کر جس نے ہمارے وجدان و ادراک کو جھنجھوڑا غنودگی کے شکار احساس کو جگایا شعور کی بے حسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 252 سے 960