شاعری

آخری دن نزدیک ہے

یہ سوتے جاگتے لمحات مجھے اب حالت احساس میں رہنے نہیں دیتے ہر اک پل بوجھ لگتا ہے یہ جسم اپنا مجھ تنہائیوں کے ہر سفر سے خوف آتا ہے مجھے یہ چاندنی بھی اب بہت اچھی نہیں لگتی کسی چہرے پہ وہ سرخی شفق جیسی نہیں ملتی مجھے معصوم بچوں کا ہمکنا اور اچھلنا کودنا کلکاریاں لینا بھی سب بے کیف ...

مزید پڑھیے

غالبؔ

تم یہ کہتے ہو کہ قائل نہیں اسلاف کا میں سچ ہے یہ دور بھی اسلاف پرستی کا نہیں آج ہر جام سے لبریز مع ہستی سے جام دیروز میں یہ بادۂ رنگیں ہے کہیں تم نے سمجھا ہی نہیں فلسفۂ زیست ہے کیا کب میں کہتا ہوں کہ جھٹلا دو گزشتہ لمحے میں نے تو اور بھی چمکائے ہیں ماضی کے نقوش گل کئے ہوں گے تمہیں ...

مزید پڑھیے

محرومی

جیسے تاریکی میں سائے کھو جاتے ہیں اسی طرح مجھے یقین ہے کہ تم میرے نزدیک اور بہت نزدیک موجود ہو لیکن دکھائی نہیں دیتے میں اس تاریک ماحول میں پرچھائیوں کو چھوتا ہوں لیکن اس عمل میں میرے ہاتھ آتا ہے صرف ٹھنڈی راکھ کا ڈھیر

مزید پڑھیے

سرمایہ

کبھی بے کیفی اور بے چینی میں سفر پہ نکلو تو گھر سے دور ہونے کا احساس ہر لحظہ اے ولولے جگاتا ہے اور نئی خواہش کو آئینہ دکھاتا ہے بکھرتے ٹوٹتے لمحوں مجبوری اور مہجوری کے عالم میں بس یہی چیز کام آتی ہے

مزید پڑھیے

پکاسو کا مشورہ

میں نے کل پکاسو کی یہ مصوری دیکھی ہونٹ جس میں کالے تھے اور جس کے سینے پر آنکھ بھی بنی دیکھی شاید اک مصور کو یہ پیام دینا تھا آدمی بنانے میں احتیاط لازم ہے

مزید پڑھیے

اپنی تلاش میں نکلے

بہت گمان ہے اپنے وجود کا مجھ کو مگر کوئی بھی حقیقت عیاں نہیں مجھ پر خزاں رسیدہ کسی برگ ناتواں کی طرح گمان یہ کہ سفر میرے اختیار میں ہے مجھے تو یہ بھی نہیں علم کیا ہے میری ذات میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں وہ کون ہے کیا ہے وہ چاہتا ہے اسے ڈھونڈ لوں اگر میں بھی کوئی نشان کوئی روشنی تو لازم ...

مزید پڑھیے

دوہری شہریت

قصہ دوہری شہریت کا ایک ہجرت نے لکھا ہے جسم کی ہجرت کہیے اس کو ہاتھوں اور پیروں کی ہجرت ناک کان اور ہونٹوں کی ہجرت میرا جسم یہاں ہے لیکن روح کا ڈیرا اور کہیں ہے میرے پرانے ہم سایے سب میرا چہرہ مانگتے ہیں اور نئے ہیں جتنے بھی وہ جان رہے ہیں مجھ کو نیا آئینہ میں مجھ کو اپنا دھندلا ...

مزید پڑھیے

قیدی الفاظ

دیکھ اے مرے ہم زاد دیکھ اپنے بھیتر میں تیرے ایک زنداں میں کتنے ہی یہ قیدی ہیں بے شمار لفظوں کے ذات میں جو گونگے تھے آہ بھری کچھ باتوں کے ظلم کی تپتی چھایا میں لبوں پہ آتے نالوں کے جو کرچی کرچی ٹوٹ گئے وہ شیشے سب ارمانوں کے وہ جسم پہ تیرے بوجھ نہیں یہ چھالے تیری روح پہ ہیں میں ڈرتا ...

مزید پڑھیے

کالا موتیا

آج ایک کالے کو مرسڈیز میں دیکھا دل میں وسوسے جاگے ڈرگز کا یہ پیشہ ہے عورتوں کی دلالی یا ہے بینک کا ڈاکو ہو نہ ہو یہ گاڑی بھی پار کر کے لایا ہے اس دھیان میں میرا پاؤں اس طرح الجھا مرسڈیز سر پر تھی موت سامنے رقصاں میرا سر بچانے کو مرسڈیز کالے نے اپنی گاڑی دے ماری راستے کے کھمبے سے سر ...

مزید پڑھیے

گھٹن

دانے بکھیرنے میں تو بہک گیا تھا ہاتھ وہ اور آب کی روانی بھی نشیب کو ہی چل پڑی تقسیم آسمان کی ویسے تو خیر جو بھی تھی لیکن ہوا تو دہر میں تقسیم برابری سے کی تو بھوک میری ٹھیک ہے اور پیاس کا جواز بھی لیکن یہ میری زیست میں گھٹن کہاں سے آ گئی

مزید پڑھیے
صفحہ 254 سے 960